خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 811 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 811

خطبات طاہر جلد 15 811 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء طرف بلائیں گے تو قول سچا ہوگا اور عمل جھوٹا ہوگا اور ایسے قول کو بھی خدا جھوٹا قرار دیتا ہے اور وہ شخص سمجھ بھی نہیں سکتا کہ میں نے کون سا جھوٹ بولا ہے میں تو اللہ کی طرف بلا رہا ہوں اور سچے دین کی طرف بلا رہا ہوں۔یہ تو سچی باتیں ہیں لیکن اس کا عمل اس کو جھٹلا رہا ہو گا اور ایسے شخص کے قول کو خدا جھوٹا قرار دیتا ہے۔اس کی مثال میں نے آنحضرت ﷺ کی سچائی کی گواہی دینے والے منافقین کی صورت میں آپ کے سامنے بار بار رکھی ہے۔اس سے سچی گواہی کیا ہوسکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے کوئی کہے کہ تو خدا کا رسول ہے۔اس گواہی کو پیش کر کے چونکہ وہ منافق لوگ ہیں ان کی زندگی کا عمل اس کی تائید نہیں کرتا کہ وہ عملاً آنحضرت ﷺ کو سچا سمجھ رہے ہوں۔اللہ ان کی گواہی پیش فرما کر کہتا ہے خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔خدا گواہی دیتا ہے کہ تو سچا ہے لیکن تیرے سچ کی گواہی دینے والے جھوٹے ہیں۔تو دیکھیں بظاہر ایک متضاد بات ہے لیکن کتنی گہری صداقت اس میں پائی جاتی ہے اور تضاد نہیں ہے۔اس میں ایک مفہوم ہے وہ سمجھنا چاہئے۔مفہوم یہ ہے کہ ایک انسان جب قول سے کچھ کہتا ہے تو اس سے بحث نہیں کہ وہ سچی بات کر رہا ہے یا جھوٹی بات کر رہا ہے اگر اس کے دل کا اندرونہ اس قول کی تائید میں نہیں ہے ، اگر عمل اس کی موافقت نہیں کرتا تو جھوٹا ہے خواہ وہ قول بظاہر سچاہی ہو۔تو یہ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ جب آپ دعوت الی اللہ کریں گے اور آپ خود خدا کی طرف حرکت کرنا شروع کریں گے تو آپ کے اندر ایک سچائی کی گواہی اٹھ کھڑی ہوگی اس سے آپ کے قول میں برکت پڑے گی اور طاقت نصیب ہوگی اور بات بات میں فرق ہوتا ہے۔صرف چالا کی اور لفاظی کا فرق نہیں بلکہ سچائی کے وزن کا فرق ہے اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کو دنیا سمجھے نہ سمجھے لیکن تسلیم کئے بغیر رہ نہیں سکتی۔ایک سچے آدمی کی بات میں جو وزن ہے اس کے ساتھ ایک جھوٹے چالاک آدمی کی بات کا مواز نہ ہو ہی نہیں سکتا۔بڑے بڑے آپ نے دیکھے ہوں گے بڑی لفاظیاں کرنے والے مجلسیں لگانے والے اور سجانے والے ان کی باتوں کا کوئی اثر نہیں۔نہ ان کے اوپر نہ دوسروں پر۔جیسے جیسے لطیفے چھوڑ جائیں گے لوگ ان پر نہیں گے۔کوئی ایسا بے وقوف ہے وہ ایسا ہے وہ ایسا ہے اور ایسے ریڈیو پر بھی بڑے آتے ہیں بیان کرنے والے لیکن اپنا کر دار دیکھو تو ان باتوں سے کوئی بھی متاثر نہیں ہوا۔نہ ان کی باتیں سن کر کسی میں نیکی پیدا ہوتی ہے۔پروگرام پنجابی کے بھی ہیں ،اردو کے بھی