خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 793
خطبات طاہر جلد 15 793 خطبہ جمعہ 11 اکتوبر 1996ء کر لئے ہیں۔وہ کہتے ہیں عقیدہ جو بھی ہو بس سچا ہے ہم نے ماننا ہی یہی ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جو انتہا پرست مسلمانوں میں بھی مل رہے ہیں، ہندوؤں میں بھی ملتے ہیں، دنیا کے ہر مذہب میں موجود ہیں اور ان کی انتہا پسندی ان کی بے وقوفی کا مظہر ہے جنہوں نے عقل سے کچھ سوچا ہی نہیں جنہوں نے کہا بس جو کچھ کہا گیا درست ہے، جو کچھ لکھا گیا صحیح لکھا گیا اور لکھنے والے کون تھے وہ ازمنہ وسطیٰ کے وہ مذہبی راہنما یا سکالرز جنہوں نے جو سمجھا وہ لکھ لیا اور یہ سمجھے کہ یہ خدا کا نوشتہ ہے۔پس ان کے لکھے ہوئے پر ایمان لانا فی الحقیقت خدا کے لکھے پر ایمان لانا نہیں بلکہ بگڑے ہوئے دور کے علماء کے لکھے پر ایمان لانا ہے اور سوائے بے وقوف کے کوئی ان علماء کی تحریروں پر ایمان لا ہی نہیں سکتا کیونکہ ازمنہ وسطی کے جو علماء تھے ان میں بڑے بڑے چوٹی کے بزرگ اور علماء بھی تھے مگر جن کو انہوں نے پیروی کے لئے چنا ہے ان لوگوں کو چنا ہے جن کا دنیا کے متعلق کوئی علم نہیں تھا اور باوجود علم نہ ہونے کے انہوں نے دنیا کے غلط نقشے کھینچے اور قرآن کریم کی غلط تفسیریں کیں اور قرآن کریم کی طرف وہ تحکم منسوب کیا جو قرآن میں موجود نہیں تھا یعنی جبر کے ساتھ دنیا میں اسلام کا پھیلاؤ ، اسلام تمہیں حق دیتا ہے کہ جو کوئی بھی اسلام کے خلاف بات کرے یا کسی بزرگ کے خلاف بات کرے اس کی گردن اڑا دو۔یہ باتیں نوشتہ خدا تو نہیں تھیں، نہ تمام علماء نے لکھیں مگر جنہوں نے لکھیں ان کی انہوں نے پیروی کی اور ان کی نیک باتوں کو چھوڑ بیٹھے۔پس اس پہلو سے بے وقوفی ہے کہ اول تو قرآن اور رسول کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے انہوں نے اسلام ازمنہ وسطی کے علماء سے سیکھا اور پھر ان کی ہر اچھی بات کو رڈ کرتے ہوئے ، بے اعتنائی کرتے ہوئے ، اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔صرف ان باتوں کو چنا جن میں انسان کو انسان کے خلاف نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے، جن میں مذہب کے نام پر تشدد کی تعلیم دی جاتی ہے، جن میں مسلمان کو محکم کا حق دیا جا رہا ہے اور یہی حال عیسائیوں کا بھی ہے ، یہی حال ہندوؤں کا بھی ہے کوئی مذہب بھی اس صورت حال سے مستشفی نہیں ہے۔تو ایسے لوگ جو ان لوگوں کو ر ڈ کر بیٹھے ہوں ان کو اگر آپ مذہب کی طرف بلائیں گے تو جس مذہب کی طرف بلائیں گے اس مذہب کی ایک بھیانک تاریخ ان کی آنکھوں کے سامنے ابھر آئے گی۔اسلام کی طرف بلائیں گے تو وہ سمجھیں گے ثمینی کی طرف بلایا جارہا ہے۔اسلام کی طرف بلائیں گے تو قذافی کی طرف سمجھیں گے بلایا جارہا ہے، سعودی