خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 784 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 784

خطبات طاہر جلد 15 784 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء کے ساتھ یہ مفوضہ فرائض سرانجام دیا کرتے تھے۔لاہور کے دوستوں کا ایک گروہ تھا جس میں یہ بھی تھے صدیق شاکر صاحب بھی تھے اور نیلا گنبد فیملی کے بیٹی صاحب وغیرہ قیوم صاحب یہ سب ہمارا ایک گروہ تھا جو خدمات دین کے معاملات میں ہم مل کر مشورے کرنے کے بعد لاہور کے دائرے میں کام کرتے تھے۔میں تو لاہوری نہیں تھا مگر ربوہ سے آکر جس گروہ میں مل کر مجھے کام کا مزہ آتا تھا وہ بہت ہی سعادت کے ساتھ یہ خدمت کیا کرتے تھے ان میں مبارک محمود پانی پتی کا نام بھی انشاء اللہ ہمیشہ رہے گا کیونکہ بڑا سلیقہ تھا خدمت کا۔اور پھر چوہدری محمد طیف صاحب ہیں سیکرٹری وقف جدید آف گھٹیالیاں ان کو میں نے اس لئے چنا ہے کہ ان کے متعلق رپورٹیں مرکز سے یہ ہیں کہ بے انتہا مخلص داعی الی اللہ تھے اور جب بھی ان کے سپر د کوئی کام ہوا ہے انہوں نے بہت آگے بڑھ کر کام کیا اور یہ وفات ان کی ، یہ ایک شہادت کا رنگ اس لئے رکھتی ہے کہ آپ کسی دوسری جگہ گھٹیالیاں دینی کام میں یا ڈش پر خطبہ سننے جارہے تھے یا اس قسم کا کوئی سلسلہ یا دعوت الی اللہ کا کام تھا یا ایسے لوگ جن کے پاس ڈش نہ ہوں وہ ساتھ کے گاؤں میں جایا کرتے ہیں تو مقصد دین کا ہی تھا جس سفر میں بس کے حادثے میں آپ شہید ہو گئے۔تو ان کے متعلق مرکز سے خاص طور پر یہ خط ملا تھا کہ ان کی ساری زندگی خاموش لیکن بہترین خدمت میں صرف ہوئی ہے اس لئے اگر ممکن ہو تو ان کو بھی نماز جنازہ میں شامل کر لینا چاہئے۔یہ جو آخری ہے نا اگر ممکن ہو یہ میں نے اپنی طرف سے بتایا ہے یعنی زبان یہ بول رہی تھی لیکن چونکہ میں نے منع کیا ہوا ہے کہ نام نہ لیں اس لئے کہا نہیں مجھے۔سارا خط یہ بتا رہا تھا کہ سمجھے جائیں ہماری بات اور اس بھائی کو بھی شامل کر لو تو ، چنانچہ میں نے اسی وقت لبیک کہا۔عالم بی بی صاحبہ اہلیہ چوہدری فضل دین صاحب آف گھسیٹ پورہ یہ فضل الہی صاحب عارف مربی سلسلہ کی والدہ ہیں۔سادہ مزاج ، نیک طبع اور دعا گو جو مثالی بزرگ عورتیں ہمارے معاشرے میں ہوا کرتی تھیں، ابھی بھی ہیں، ان میں سے ایک تھیں۔ان کو بھی شامل کر لیا گیا ہے اور ایک آخری تازہ اطلاع جو ملی ہے وہ سیدہ منیرہ ظہور جو بہت ہی اعلیٰ پائے کی شاعرہ بھی تھیں ، الفضل سے آپ کو ان کے ساتھ تعارف ہوا ہوگا ، اکثر ان کے شعر الفضل میں چھپا کرتے تھے ، مجھے پہلے لکھ کے بھیجا کرتی تھیں۔بعض دفعہ کوئی تھوڑی سی ترمیم میں تجویز کر دیتا تھا تو خوشی سے قبول کرتی