خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 785
خطبات طاہر جلد 15 785 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء تھیں۔ان کا اخلاص کا تعلق بھی بہت گہرا تھا ان کو بھی میں نے اس فہرست میں شامل کر لیا ہے۔اس لئے چار غائبانہ جنازے اس ایک حاضر جنازے کے ساتھ ہوں گے۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا: ایک بات جو میں نے کہنی تھی وہ ایسے لوگوں کے لئے دعا کی تحریک ہے جو نا دانستہ طور پر یا دانستہ طور پر آفتاب خان صاحب کا دل دکھاتے رہے اور ان کا مزاج ایسا تھا کہ خاموشی سے مجھے بتائے بغیر کہ کس نے کیا گستاخی کی ہے بڑے تحمل کے ساتھ بات سن کے وہ گنوا دیتے تھے۔مجھے اطلاع ملتی تھی مجھے بہت تکلیف پہنچتی تھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ جو الزامات لگا کر آپ کے خلاف گستاخی کی ہے تم نے انصاف کا سلوک نہیں کیا تم نے فلاں نہیں کیا ان سب میں یہ بالکل بے قصور ہوتے تھے۔مگر چونکہ طبیعت میں تحمل اور حوصلہ بڑا تھا اس لئے جرات کے ساتھ کئی لوگ آ کے جسے بے با کی کہنا چاہئے نہایت بد تمیزی کے کلمے بھی لکھ دیتے تھے کہہ بھی دیتے تھے وہ چپ کر کے دبا کے بیٹھ جاتے تھے۔جب مجھے یہ علم ہوا میں نے ان کی طرف سے بے چین ہوکر ، بے قرار ہو کر ان کو سمجھانے کی بعض دفعہ کوشش کرتا رہا۔بعض سمجھے ، بعض نہیں سمجھے۔مگر اللہ بہتر جانتا ہے اور کتنے واقعات ہوئے ہوں گے جس کی انہوں نے مجھے کانوں کان خبر نہیں ہونے دی۔تو ان کے لئے بھی دعا کریں جو گستاخیوں کے مرتکب ہو گئے۔اب وہ معافی بھی نہیں مانگ سکتے کیونکہ ہم میں یہ نہیں رہے۔تو حیا میں ان کو بھی شامل کر لیں اللہ ان کو بھی ہدایت دے، جو ان سے زیادتیاں ہوئیں اللہ معاف فرمائے اور ان کی زیادتیاں آفتاب خان صاحب کی نیکیوں کے پلڑے میں ڈال دے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین