خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 781
خطبات طاہر جلد 15 781 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء جو جماعتی دائرے سے تعلق رکھتے ہیں میں نے ان سے بیرونی تعلقات میں بہت کام لئے ہیں کیونکہ بحیثیت ایک نہایت ذہین ، کامیاب اور شریف النفس بیوروکریٹ کے ان کا تعلق اپنے ماتحتوں سے بھی گہرا تھا اور اپنے افسران سے بھی بہت گہرا تھا اور ارد گرد جو بھی ان سے ملنے، ان سے رابطے میں آئے ان سے بھی تعلقات ہو جاتے تھے اور بیوروکریسی سے نکلنے کے بعد میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کے تعلقات اس قدر گہرے اثر انداز ہوئے ہوں ان لوگوں پر جن سے بھی گورنمنٹ کی خدمت کے دوران واسطے پڑتے تھے۔لوگ تو اس وقت سر جھکاتے ہیں کسی افسر کے سامنے ، جب اس کی افسری ختم ہوئی تو ان کا سر بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے لیکن ماتحتوں کا بھی یہی حال ہے ان کے سامنے ان کی اطاعت کے جذبے بڑے اخلاص سے قبول کرتے ، جب بات ختم ہوئی تو ان کو کوئی چھوٹا سا بھی کام کہیں ان کی مجال ہے جو یہ سن لیں کہتے ہیں تم اپنی جگہ ہم اپنی جگہ، اب ہم آزاد ہیں۔ان کے حسن خلق سے کبھی کوئی آزاد نہیں ہوا اور یہ حسن خلق کی وجہ سے تھا اس لئے کبھی بھی کسی افسر کے ساتھ کبھی رابطہ ہوا ہے تو جب بھی اس سے کوئی کام پیش آیا اس نے بڑی محبت سے ان کے تقاضوں کو پورا کیا ہے۔اس لئے اس تعلق میں میں ان سے سیاسی راہنماؤں سے تعلقات میں بھی کام لیتا رہا ، یورپین معاملات میں بھی ان سے کام لیتا رہا اور پاکستان ، ہندوستان کے پرانے تعلقات میں بھی ان سے کام لیتا رہا اور خدا کے فضل سے ہمیشہ انہوں نے کامیابی کے ساتھ وہ کام سرانجام دیئے لیکن انکساری کا یہ عالم تھا کہ جانے سے پہلے ضرور پوچھا کرتے تھے کہ میری یہ رائے ہے کہ اس طرح میں بات کروں گا۔آپ اگر اس میں تبدیلی چاہتے ہیں تو مجھے بتادیں۔چنانچہ اب آخری جوان سے خصوصی کام لیا گیا ہے وہ انٹرنیشنل فورم میں جو امریکہ میں منعقد ہوا جس میں مسلمانوں اور یہود کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کیا تجاویز ہو سکتی ہیں، اس عنوان کے تابع انہوں نے جن کو دعوت دی ان میں آفتاب خان صاحب کا نام بھی شامل تھا۔یعنی ان کی جو آواز ، ان کا جو رسوخ ہے، ان کا کردار ہے وہ سیاست دانوں کی وساطت سے ان کو پہنچا ہے۔بہت سے امریکہ یا کینیڈا یا یورپ کے لوگ ہیں چونکہ اس تعلق میں آپ کے بہت قریب رہے ان میں سے کسی نے ان کا نام بھیجا ہے کہ اس کو بھی شامل کرنا چاہئے۔چنانچہ مجھ سے ذکر کیا کہ مجھے تو کوئی دلچسپی نہیں ہے مگر اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مفید ہے جماعت کے لئے تو میں چلا جاتا ہوں۔میں نے کہا ٹھیک ہے آپ ضرور جائیں اور آپ کو تو اس