خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 780 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 780

خطبات طاہر جلد 15 780 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء اکثر اپنے اس اختیار کو کام میں لاتا ہی نہیں تھا کہ اگر مجھے تسلی نہیں ہے تو میں ان کو مجبور کروں کہ وہ اپنا مشورہ بدلیں اور اسی پر عمل کریں جو میں کہ رہا ہوں۔آپس میں گفت و شنید میں کہتا تھا اچھا آپ تجربہ کرلیں مگر میری رائے یہی ہے۔اب یہ بھی ان کے تقویٰ کی نشانی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں لوگ جو میرے اردگرد ہیں وہ ہاں ہاں کر کے ہی ارد گرد ہوتے ہیں ، بالکل جھوٹ ہے۔بہت سے میرے قریب ایسے ہیں جو اس لئے قریب ہیں کہ بڑی جرات اور اعتماد کے ساتھ ،اخلاق کے ساتھ اپنی رائے پیش کرتے ہیں جو میری رائے کے مخالف ہو لیکن شرط یہ ہے کہ جب میں فیصلہ دے دوں کہ یہ کرنا ہے ، وہ نہیں کرنا اپنی رائے کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جس کا وجود ہی کوئی نہیں تھا۔یہ بات سو فیصدی آفتاب خان صاحب کی امارت پر اطلاق پاتی ہے۔چنانچہ بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ انہوں نے کہا جی میرے نزدیک فلاں فلاں جو دوست ہیں وہ فلاں کام بہترین کر سکتے ہیں اور ساتھ معذرت کے ساتھ کہتے تھے مجھے پتا ہے آپ کو اتفاق نہیں۔میں جانتا ہوں آپ کو اختلاف ہے مگر مجھے یقین ہے۔میں نے کہا اگر آپ کو یقین ہے تو شوق سے کریں ، میری طرف سے اجازت ہے۔خدا کرے آپ کا یقین درست نکلے۔تو اس کے بعد چھے مہینے کبھی سال کے بعد سر پھینکا ہوئے آتے تھے کہ وہی بات ہوئی جو آپ کہتے تھے۔مجھے یقین تھا مگر غلط نکلا۔تو یہ جو لمبے تجربے سے ایک فراست نصیب ہوتی ہے یہ بیورو کریسی کوملتی ہی نہیں کیونکہ ان کا ماحول مختلف ہے۔نہایت ذہین ہونے کے باوجود اعلیٰ سے اعلیٰ افسر بھی اس تجرباتی فراست سے محروم رہتے ہیں جو لمبے عرصے کے ایسے کاموں سے نصیب ہوتی ہے جس میں جبر کو کوئی دخل نہیں ہے۔طوعی کام ہیں اور اس میں وہی افسر کامیاب رہتا ہے جو طوعی خدمت لینے کا سلیقہ سیکھ جاتا ہے اور اس کے لئے پھر تجربے کی ضرورت پڑتی ہے۔مجلس شوری کے موقع پر اور ایسے مواقع پر کئی دفعہ بعض غلطیاں بھی ہو جاتی تھیں مگر فوراً اس کی تصحیح فرماتے تھے۔جب بھی میں ان کو کہتا تھا یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آیا جب بالکل صیقل ہو گئے اور اس جلسے کے بعد ایک موقع پر مجھ سے کہا کہ اب تو دیکھیں سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔اس مجلس شوریٰ کے بعد بھی یہی بات کی گویا یہ بتانا چاہتے تھے کہ جس طرح آپ نے مجھے تیار کیا میں پوری طرح تیار ہو گیا لیکن جب تیار ہوئے تو اللہ نے واپس بلا لیا۔اس کی رضا پر ہم راضی ہیں۔وہ اور بھی ایسے ہمیں عطا کر دے گا لیکن خلاء جو چھوڑا ہے وہ بہت بڑا ہے، معمولی خلاء نہیں کیونکہ جماعتی کاموں کے علاوہ