خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 779 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 779

خطبات طاہر جلد 15 779 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء خدا تعالی نے یہ توفیق عطافرمائی کہ پہلے ترجمہ کرنے کا جاری نظام جو ہے وہ حضرت خلیفہ مسیح الثالث کی زندگی کے آخری ایام میں شروع ہو چکا تھا اور آفتاب احمد خان صاحب لندن سے تشریف لائے تھے میں جانتا تھا کہ ان کی اردو بھی بہت اچھی ہے ، انگریزی بھی بہت اچھی ہے اس لئے ان سے درخواست کی اور انہوں نے ماشاء اللہ بہت عمدہ طریق پر اس ترجمہ کا حق ادا کیا۔مختلف وقتوں میں مختلف کمیٹیوں میں قرآن کریم کے جو تر جمہ کا سلسلہ چلا تھا میں نے اپنے ساتھ ایک کمیٹی بنائی ہوئی تھی اس میں بھی یہ شامل رہے اور صدر قضا بورڈ کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔1986ء میں پہلی بار امیر UK مقرر ہوئے۔جب امیر مقرر ہوئے ہیں تو جہاں تک ان کی نیکی اور تقویٰ کا تعلق تھا ایک ذرہ کا بھی مجھے کبھی شک نہیں پڑا لیکن جہاں تک ان کی بیوروکریٹک تربیت کا تعلق تھا اس کے پیش نظر مجھے لازماً ساتھ ساتھ چلنا پڑتا تھا اور یہ بھی جانتے تھے کہ نظام جماعت کو چلانا اور چیز ہے اور بیورکریٹ ہو کر ایک بہترین مثال قائم کرنا ایک اور بات ہے۔حکومت کی ملازمتیں ، دنیا کی اعلیٰ تعلیمات کے باوجود ، ایک شخص کی نیکی کے باوجود اسے جماعتی خدمات کے لحاظ سے پوری طرح صیقل نہیں کرسکتیں۔یہ قصہ ہی اور ہے۔انہی لوگوں کو یہ طریقہ آتا ہے جو بچپن سے خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ، انصار اللہ ان کی تنظیموں سے جو طوعی کام کرنے والی تنظیمیں ہیں ان سے گزرے ہوں اور ان کو پتا ہو کہ طوعی کام لینا ہوتا کیا ہے۔ایک بیوروکریٹ نے تو جب حکم دے دیا وہ حکم ہو گیا کام چل پڑا خواہ کوئی دل سے قبول کرے یا نہ کرے۔مگر نظام جماعت میں لوگوں کے دلوں کو ساتھ لے کر چلنا یہ راز ہے نظام جماعت کی کامیابی کا اور اس کے علاوہ ہر بندے کی پہچان صحیح ہو کہ یہ اس قابل ہے بھی کہ نہیں۔ظاہری طور پر بعض دفعہ لوگ قابل ہوتے ہیں باطنی طور پر قابل نہیں ہوتے۔تو اس پہلو سے ان کو میں نے سمجھایا کہ جہاں تک ممکن ہے جو اہم فیصلے ہیں ان میں مجھ سے بات کر لیا کریں۔چنانچہ اس دن کے بعد تا وفات انہوں نے مسلسل اس بات کو اپنائے رکھا، کبھی بھی کوئی فیصلہ آخری نہیں کرتے تھے جب تک پہلے مجھے سے بات نہ کر لیں۔اکثر یہ ہوتا تھا کہ ان کے مشوروں کو میں مان جاتا تھا اور کئی دفعہ کہتا تھا کہ میرے نزدیک تو یہ ٹھیک نہیں۔چھوڑ دیں اس بات کو اور بڑے شرح صدر کے ساتھ مسکراتے ہوئے چھوڑ دیا کرتے تھے۔چونکہ ایک دوستانہ رنگ تھا بھائیوں کی طرح اس لئے میں ہمیشہ اپنے اس اختیار کو بلکہ