خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 778 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 778

خطبات طاہر جلد 15 778 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء محمد حسین صاحب بٹالوی کی اولاد میں سے تصدیق کرنے والے اور اول درجے پر خادم، خدمت کا مقام حاصل کرنے والوں میں ایک ہمارے آفتاب خان صاحب بھی بنتے ہیں۔آپ کے نانا شیخ محمد صاحب تھے۔بڑے ہو کر گورنمنٹ کالج لاہور سے آپ نے تاریخ میں MA کیا۔میں مختصر بتا رہا ہوں آپ کی والدہ بھی ایک صحابی کی اولاد تھیں۔1945ء تا 1947 ء تک گورنمنٹ کالج راولپنڈی میں پڑھاتے رہے۔گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کی وہاں سے MA کیا ہے آپ نے۔اس کے بعد گورنمنٹ کا لج راولپنڈی میں پڑھایا، پھر 1947ء میں انکم ٹیکس افسرلاہورمقرر ہوئے۔پھر 1948ء میں فارن سروس آف پاکستان میں آئے ہیں پہلی بار اور 1948ء سے 1989 ء تک سیاسی مبصر اور سفیر کے طور پر پاکستان کی خدمت کرتے رہے۔اس سلسلہ میں واشنگٹن نیو یارک جکارتہ، لندن، دہلی ،اٹلی وغیرہ وغیرہ اور یوگوسلاویہ، یہ لکھا تو نہیں ہوا مگر مجھے یاد ہے آپ یوگوسلاویہ میں بڑی خدمت سرانجام دیتے رہے ہیں۔یہ آپ کی جو پروفیشنل زندگی ہے ایک بیوروکریٹ کے طور پر اس کا یہ خلاصہ ہے۔50۔1949 ء میں UNO کی میٹنگ میں شمولیت کی جبکہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ تھے۔مسئلہ کشمیر، لیبیا، تیونس، مرا کو اور الجیریا کے مسائل پیش کئے گئے جن میں آپ کو پاکستان کی طرف سے نمائندگی یعنی بیور کریٹک لیول پر نمائندگی میں خدمت کی توفیق ملی۔وزارت خارجہ میں ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی آپ کی پوسٹنگ رہی ، اٹلی اور یوگوسلاویہ میں پاکستان کے سفیر تھے اور جماعتی خدمات کا جہاں تک تعلق ہے پہلی بار آپ کو 1981ء میں جلسہ سالانہ ربوہ میں تقاریر کا انگریزی ترجمہ پیش کرنے کا موقع ملا۔یہ وہ ابتدائی تجربہ تھا جو خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ کروایا اور مجھے پتا نہیں تھا کہ آئندہ خدا تعالیٰ مجھ سے اس نہج میں کام لینا چاہتا ہے اس لئے مجھے خیال آیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے زمانے میں ، آخری دو تین سال کے اندر بہت اصرار کے بعد میں نے یہ نظام شروع کیا کہ کیسٹس کی صورت میں حضرت خلیفہ مسیح کے خطبات افریقہ اور دوسرے ایسے ممالک میں جہاں پاکستانی سمجھنے والے موجود ہیں پھیلائے جائیں اور کیسٹس کی ترسیل کا سلسلہ اس وقت شروع ہو گیا تھا۔اس وقت تک جو باہر سے آنے والے مہمان تھے ان کے لئے جلسہ سالانہ میں ساتھ ساتھ جاری تقریر کا ترجمہ کرنے کا رواج نہیں تھا۔کچھ لوگ بیٹھے ہوتے تھے ساتھ وہ کچھ بتا دیا کرتے تھے مگر اکثر تو بے چارے بت بن کر محض ادب میں جلسے پر حاضر رہا کرتے تھے۔تو