خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 776 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 776

خطبات طاہر جلد 15 776 خطبہ جمعہ 4/اکتوبر 1996ء شمعیں بجھ چکی ہوں۔کون تھا جو اس وقت حضرت ابو بکر کے اسوہ کی تلاش کیا کرتا تھا ، کون تھا جو عمر اور عثمان صلى الله اور علی کے اسوہ کے پیچھے بھاگتا تھا۔ایک ہی تھا محمد رسول اللہ ہے جن کا اسوہ تھا اور باقی سب اسوے اس کے سامنے مٹے ہوئے تھے۔پس قرآن کریم کی یہ ہدایت کہ ان کے اسوہ کی پیروی کرو، بتارہی ہے کہ صلى الله حضرت محمد رسول اللہ اللہ جب جدا ہو جائیں گے تو یہ لوگ اپنی ذات میں محمد رسول اللہ ﷺ کی شمعوں کو زندہ رکھنے والے ہوں گے کہ آپ اپنے وصال سے پہلے یہ کر چکے ہیں۔وَالَّذِينَ مَعَةً کا مضمون صا در آچکا ہے۔اس لئے زندگی ہی میں ایسا ہونا لازم ہے۔مگر اگر نہ ہوا ہو تو پھر کسی کی موت اگر کچھ زندہ لوگ پیدا کر دے تو کتنی خوش قسمت موت ہوگی اور وہ لوگ بھی خوش قسمت ہوں گے جو کسی کے مرنے سے مرنہیں جایا کرتے بلکہ زندہ ہو جاتے ہیں۔یہ وہ سارا مضمون ہے جس کے پیش نظر میں نے اس آیت کریمہ کی آپ کے سامنے تلاوت کی اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ انشاء اللہ تعالیٰ قرآن کی ان آیات کے مصداق بنیں گے۔جب ان کے وصال کی خبر ملی اس وقت میں ہارٹلے پول میں تھا اور سوائے اس کے میرے دل سے کوئی آواز نہیں اٹھی کہ اِنَّا لِلہ ہمارا ایک بھائی ہم سے جدا ہو گیا۔میں نے پرائیویٹ سیکرٹری سے کہا کہ تذکرہ کا مطالعہ کرو مجھے بتاؤ یہ جو اچانک سا واقعہ ہوا ہے عجیب، کیا اشارہ کسی جگہ ذکر ملتا ہے الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں تو ایک ایسا الہام انہوں نے نکالا ہے جو میں یہ نہیں کہتا کہ لازماً اس واقعہ پر اطلاق پاتا ہے مگر مشابہ بہت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں، یہ ذکر حبیب میں مفتی صاحب کی روایت ہے، حضرت مفتی صاحب کی۔فرمایا سے چل دیا۔“ تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ الہام ہوا اِنَّا لِلہ ہمارا بھائی اس دنیا اور یہ وہ خبر ہے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں۔مصداق ذہن میں نہیں آیا“ (تذکره:664) حالانکہ اکثر الہامات جو اشارہ بھی ہوتے رہے ہیں مثلاً پل ٹوٹ گئے یا دو شہتیر ٹوٹ گئے ،شاتان تذبحان ہر جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک توجیہہ پیش فرمائی ہے ایک