خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 72

خطبات طاہر جلد 15 الصغیر سے حدیث لی گئی ہے۔72 14 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء (الجامع الصغير في احاديث البشير النذیر از امام جلال الدین سیوطی صفحہ نمبر 146 حدیث نمبر (2415) اسی طرح ایک دار قطنی بحوالہ جامع الصغیر حدیث ہے۔اذا سلم رمضان سلمت السنة (الجامع الصغير في احاديث البشير النذیر از امام جلال الدین سیوطی صفحہ نمبر 48 حدیث نمبر (685) پہلی حدیث کا ترجمہ ہے ہر چیز کا ایک دروازہ ہے اور عبادت کا دروازہ روزے ہیں۔دوسری حدیث کا ترجمہ ہے کہ جب رمضان سلامتی سے گزر جائے تو سمجھو کہ سارا سال سلامت ہے۔جب رمضان سلامت رہا تو سارا سال سلامت رہا۔یہ ترجمہ ہے۔پہلی حدیث میں جو یہ فرمایا گیا کہ عبادت کا دروازہ رمضان ہے تو اس سے کیا مراد ہے کیا رمضان کے بغیر عبادت نہیں ہوتی۔پانچوقتہ نماز جو فرض ہے اس کے علاوہ بھی تو بہت سی عبادت ہے تہجد کی نمازیں بھی ہیں یہ سارا سال ہوتی رہتیں ہیں تو صیام کو عبادت کا دروازہ کیوں فرمایا گیا ہے؟ ایک تو یہ معنیٰ ہے کہ عبادت کا وسیع تر مفہوم جس میں بندگی بھی شامل ہے جیسا رمضان سکھاتا ہے ویسا کوئی اور مہینہ نہیں سکھاتا۔دوسرے یہ کہ رمضان کے وقت عبادت کے لئے ایسا جوش پیدا ہوتا ہے اور ایسی گرمی پیدا ہوتی ہے کہ حقیقت میں اگر عبادت کی لذت پانی ہو تو رمضان کے رستے سے داخل ہو پھر تمہیں یہ بات سمجھ آئے گی کہ عبادت کیا ہوتی ہے؟ پس یہ مفہوم ہے ” عبادت کا دروازہ “ ورنہ یہ مراد نہیں کہ رمضان کے بغیر عبادت نہیں ہوسکتی۔دوسری حدیث میں ہے رمضان سلامت رہا تو سارا سال سلامت رہا۔اس حدیث میں جو مومن سے توقع ہے کچھ اس کا بھی بیان ہے کہ وہ مومن جو حقیقت میں رمضان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور کوئی تقاضا تو ڑتا نہیں اس کے لئے خوشخبری ہے کہ اس کا آئندہ سارا سال سلامتی سے گزرے گا۔پس پہلی جو احادیث تھیں ان میں ماضی کے تعلق سے خوشخبری دی گئی تھی یعنی پچھلے جو گناہ ہیں وہ معاف کر دیئے جائیں گے ، گزشتہ کو تا ہیاں جو ہوئیں ان سے صرف نظر فر مایا جائے گا اس لئے فکر نہ کر واگر رمضان نصیب ہو گیا تو جو کچھ پہلے لغزشیں ہوئیں، کوتاہیاں ہوئیں اللہ تعالیٰ انہیں بھی معاف فرمادے گا۔اب اس حدیث میں یہ خوشخبری ہے کہ اگر تم صحیح طور پر رمضان کے تقاضے پورے کرو گے