خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 71

خطبات طاہر جلد 15 66۔71 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء الصيام جُنّة“ کہ روزہ ڈھال ہے۔(صحیح مسلم ،کتاب الصيام باب فضل الصيام) ڈھال وہ چیز ہے جس سے ہر قسم کے خطروں کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔پس روزے کی پناہ میں آجاؤ تو ہر قسم کے فساد، ہر قسم کے خطروں سے بچ جاؤ گے لیکن اگر روزہ رکھا ہو اور منہ پر وہی پہلے کی طرح لغو باتیں یا گالی گلوچ یا اشتعال انگیز باتیں کرنا اور اشتعال انگیز باتوں کے جواب میں بے قابو ہو جانا یہ ادائیں پہلے کی سی اگر جاری رہیں تو اس روزے کا کیا فائدہ؟ ایسا روز محض بھوک کی سزا ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں رہتی۔آج صبح جب پاکستان کی خبروں سے متعلق جنگ اخبار دیکھا تو اس امید سے دیکھا کہ شاید اب یہ خبر مل جائے کہ رمضان کے مہینے میں کوئی قتل و غارت نہیں ہوگا، کوئی فساد نہیں ہوگا، پاکستان کی گلیوں میں کم سے کم کچھ عرصے کے لئے تو امن آجائے گا اور اس خوف سے دیکھا کہ کہیں یہ میری امید جھوٹ ہی نہ نکلے تو خوف سچا نکلا اور امید جھوٹی نکلی۔کیونکہ اخبار اسی طرح گناہوں کی خبروں سے کالا ہوا پڑا ہے۔ہر قسم کے فساد کی خبریں موجود ہیں اور رمضان شریف کے احترام کے ذکر شاید مسجدوں میں ملتے ہوں مگر پاکستان کی گلیاں، پاکستان کے گھر ، پاکستان کے بازار، پاکستان کے دن، پاکستان کی راتیں اس رمضان سے بے خبر ہیں جس رمضان کا ذکر میں حضور اکرم ﷺ کی زبان سے آپ کے سامنے کر رہا ہوں کسی بے چارے کو وہ ڈھال ہی میسر نہیں۔ایک ہی شہر میں ایک خاندان کو اس طرح ذبح کر دیا جاتا ہے۔آج ہی کی خبر میں تھا کہ ایک شخص جو اپنی فیکٹری میں سویا ہوا تھا وہ روزہ رکھنے کی نیت سے گھر گیا تو بیوی نے کہا کہ سوئی گیس بند ہو گئی ہے اس لئے روٹی نہیں پکا سکی۔وہ واپس اپنی فیکٹری کی طرف گیا کہ شاید بازار سے چیز لے کے کھائے لیکن اس کے بعد دیکھا نہیں گیا۔تو دوسرے دن جب پتا چلا کہ وہ چور یا ڈا کو یا اس کے دشمن اس وقت آئے ہیں جبکہ سحری کا وقت تھا اور پہلے اس کو وہاں ذبح کیا پھر اس کو گھسیٹ کر باہر لائے اس کے اپنے دفتر کا سامان ٹیلی ویژن وغیرہ کا الا ولگا یا اور اس آگ میں اس کو جلا کر خاکستر کر دیا۔یہ جہنم کا دروازہ بند ہے یا کھلا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔پس جہنم کا دروازہ کھل بھی جاتا ہے اور اس طرح بھڑک بھی اٹھتا ہے مگر ان لوگوں کے لئے جو آنحضرت مہ اور قرآن کے احکامات کے دائرے سے باہر زندگی بسر کرتے ہیں۔پھر آنحضور ﷺ نے فرمایا: ان لكل شئی بابا و باب العبادة الصيام - يي جامع