خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 772 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 772

خطبات طاہر جلد 15 772 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء وہی ایک ہے جو باقی رہنے والا ہے ، وہی ہے جو باقی رہے گا۔باقی سب ثانوی وجود یہاں تک کہ اپنے نفس کا احساس تک سب کچھ مٹ جانے والا ہے۔پس اس کی تیاری کرنی چاہئے کہ وہ وقت جو سب پر آنا ہے اس کی فکر کریں۔جو بھائی اچھے حال میں خدا کی رضا کی راہوں پر چلتا ہوا رخصت ہو گیا اس کی فکر کا تو موقع نہیں اپنی فکر کا موقع ہے کیونکہ ابھی ہمارا دار اعمل باقی ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم نیک اعمال پر ، اگر کچھ ہیں قائم رہیں گے کہ نہیں رہیں گے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم اپنے بد اعمال کے داغ دھو سکیں گے کہ نہیں دھو سکیں گے۔وہی جانتا ہے کہ کس صورت میں ہم اس آواز پر لبیک کہیں گے جو سب کو آنے والی ہے۔اسی لئے انا للہ کے تعلق میں میں نے پہلے بھی یہ بات آپ کے سامنے کھولی تھی کہ جب ہم اِنَّا لِلہ پڑھتے ہیں تو پہلے اپنے اوپر پڑھا کریں اور مرنے والے پر اس کا اطلاق آپ پڑھیں نہ پڑھیں ویسے ہی ہوتا ہے، وہ تو لوٹ بھی گیا۔اللہ للہ وانه اليه راجعون تو نہیں فرمایا کہ یہ مرنے والا اللہ ہی کی طرف سے آیا تھا اور اسی کی طرف لوٹ جائے گا۔اس مضمون کو تو خدا نے نکال ہی دیا ہے یہاں سے فرمایا اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہم جو زندہ ہیں اس وقت ، ہم بھی تو اسی کی طرف سے آئے ہیں اور ہم سب بھی اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔پس جو پیچھے رہ جاتے ہیں ان کو اپنی فکر زیادہ چاہیے جانے والے کی فکر کے مقابل پر کیونکہ جب خدا نے اس کے اعمال کا دروازہ بند کر دیا تو پیچھے رہنے والوں کا اس میں دراصل کچھ بھی دخل باقی نہیں رہتا۔دعائیں ہیں ، دعا ئیں تو ہوتی رہتی ہیں ہمیشہ لیکن زندوں کے لئے پہلے اور مرنے والوں کے لئے بعد میں۔ہر جنازے پر آنحضرت ﷺ کا یہی طریق تھا کہ پہلے اللهم اغفر لحينـا وميتنا اے اللہ ہمارے زندوں پر اپنی مغفرت فرما اور میتیوں، مردوں کی بھی مغفرت فرما۔تو جس مضمون کو حضور اکرم ﷺ نے جہاں بیان فرمایا ، جہاں رکھ دیا ناممکن ہے کہ اس کو اپنی جگہ سے اٹھا کر کسی صلى الله اور جگہ رکھا جائے اور بدزیبی پیدا نہ ہو۔وہ محل جہاں رسول اللہ ﷺ نے ایک لفظ رکھ دیا وہیں رہتا ہے اور اس کو ہٹایا نہیں جاسکتا، اس کو ہلایا نہیں جاسکتا۔پس اس سے پیغام ہمیں یہ ملنا چاہئے کہ ہر وہ موت جو کسی نیک صالح انسان کی موت ہو جس نے اپنی زندگی کو خدا کے لئے خدمت میں وقف کر رکھا ہواس سے سب سے پہلی توجہ اپنے اعمال کی طرف پھرنی چاہئے اور اپنی بقیہ زندگی کی بے اختیاری کی طرف