خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 766
خطبات طاہر جلد 15 766 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء أَلَا أَيُّهَا اللَّيْلِ الطَّوِيلُ أَلَا انْجَلى بِصُبْحِ وَمَا الْاصْبَاحُ مَنْكَ بِأَمْثَلِ کہ اے طویل رات ظلم کی اندھیروں کی تکلیفوں کی ”انجلی“ روشن ہو جاؤ ، دن میں تبدیل ہو جا لیکن ٹھہر والا ايها لليل الطويل الا انجلی بصبح صبح میں بدل جا فما الاصباح منک با مثل لیکن میں کیا کہہ رہا ہوں وہ صبح جو آنے والی ہے وہ تجھ سے بہتر تو نہیں آئے گی۔جو صبح آنے والی ہے وہ تاریک تر صبح ہے ہماری۔پس وہ بدنصیب قومیں جن کا ہر انقلاب بدتر اندھیروں میں تبدیل ہو جایا کرتا ہے ان قوموں کو روشنی دینے کے لئے خدا نے ہمیں مقرر فرمایا ہے ، ان کی کامل مایوسیوں کو مغفرت کی امیدوں میں تبدیل کرنے کے لئے خدا نے ہمیں مقرر فرمایا ہے۔پس ہم نے صرف اپنا بوجھ نہیں اٹھانا ان بدنصیبوں کا بوجھ اٹھانا ہے جن کی تعداد ، جن کی طاقت ہم سے بہت زیادہ ہے اور جن کے نزدیک ہماری کوئی بھی حیثیت نہیں۔وہ نہیں جانتے کہ ان کی زندگی ہم سے وابستہ کر دی گئی ہے۔آج خدا کے فضل سے ہم ہی ہیں اس مغفرت کے طالب جس کا ذکر یہاں موجود ہے اور جس مغفرت کے طالبوں کے سپردخدا نے دوسروں کی مغفرت کے کام بھی فرما دیئے ہیں۔پس ایسے ملکوں کے لئے ، ایسی قوموں کے لئے خواہ وہ مغربی ہوں یا مشرقی دعا ئیں بھی کریں اور کوششیں بھی کریں کہ ان کو اپنے گناہوں کا احساس ہو جائے ، یہ معلوم ہو کہ ہے تکلیف دہ بات ، ہم جس راہ پر چلے ہیں وہ اچھی راہ نہیں ہے پیشتر اس کے کہ وہ وقت آجائے جہاں سے کوئی واپسی نہیں ہوا کرتی۔اگر ہماری دعائیں اور ہمارا توجہ دلانا ان کے اندر یہ شعور پیدا کر دے تو پھر آخری کنارے سے پہلے پہلے یہ مڑ سکتے ہیں اور واپسی ممکن ہے۔اللہ کرے ہمیں اپنی آخرت کو بھی محفوظ کرنے یعنی خدا کے فضل کی مغفرت کی چادر میں لپیٹنے کی توفیق ملے اور تمام بنی نوع انسان میں جہاں تک ہمارا اثر پہنچتا ہے ان سب کی بدحالت کو ایسی حالت میں تبدیل کرنے کی توفیق ملے جہاں سے مغفرت کا مضمون شروع ہوتا ہے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین