خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 761 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 761

خطبات طاہر جلد 15 761 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء ختم کر دیتا اسے لیکن اللہ ہے ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظیمِ اس کو ایسا پیار آیا اس ادا پر کہ جان بوجھ کے نہیں کیا، محبت کے جوش میں افراتفری کے عالم میں خدا کو بندہ کہہ بیٹھا ہے اپنے آپ کو رب کہ بیٹھا ہے اور اللہ اسی پہ پیار کی نظر ڈال رہا ہے۔تو اس کے ہاں ہر ادا مطلوب ہو سکتی ہے اس میں کوئی گہراحسن ہونا چاہئے جو اس کے فطرت کے خلوص کا مظہر ہواس کی اداؤں کی سچائی ہو۔تو اس کی تلاش کرو اور ایک ہی ذریعہ ہے اس کی تلاش کا کہ اپنے آپ کو سچا کر لو کیونکہ جہاں بھی خدا کی ایسی اداؤں پر پیار کی نظر کا مضمون ملتا ہے وہاں میں نے غور کر کے دیکھا کہ ہر جگہ سچائی کے نتیجہ میں یہ بات پیدا ہوتی ہے۔اگر نور جہاں نے بناوٹ سے وہ بات کی ہوتی تو اس زمانے کے بادشاہوں کے نزدیک تو وہ گردن زدنی تھی۔اگر وہ ذہین بادشاہ بناوٹ کے کوئی بھی آثار دیکھتا تو ہوسکتا تھا اسے دیوار میں چنوا دیتا لیکن صرف سچائی تھی اور سچائی کے نتیجہ میں غلطی بھی پیاری لگتی ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کا فضل اللہ سے تعلق ہے اس کو سمجھیں اور مغفرت کی کوشش کا جہاد تو کرنا ہی کرنا ہے کیونکہ اگر نہیں کریں گے اور محض فضل کے لئے بیٹھے رہیں گے تو یہ سچائی کے خلاف ہوگا اور فضل سچائی کے نتیجہ میں اترتا ہے سب سے زیادہ فضل سچوں کو ملتا ہے۔تمام انبیاء کو نبوت کا فیض فضل کے نتیجہ میں ملا ہے اور فضل کے بغیر نبوت مل ہی نہیں سکتی کیونکہ فضل میں اس کی کوششوں محنتوں، اس کی انتہا سے زیادہ دینے کا مضمون ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ایسا جھونگا جو اصل سے بے انتہا آگے بڑھ جائے اس کی کوئی بھی نسبت باقی نہ رہے۔آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر سورہ جمعہ میں ملتا ہے پھر آپ کی بعثت ثانیہ کا ذکر ملتا ہے اور آخر پر تان اس بات پر ٹوٹی ہے ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ یہ عظیم نعمتیں جو تمہیں بتائی جارہی ہیں پہلے ایک بار، پھر اس کا اجراء نعمت کا ایک ایسے زمانے میں جو بہت دور کا زمانہ ہے وہاں جا کر حضرت محمد رسول اللہ اللہ کا فیض پھر نازل ہو جائے ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ اللہ ہے جو فضل نازل فرماتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔پر کیا بغیر وجہ کے دیتا ہے؟ خدا کے ہاں ایک گہری اندرونی منطق ہے ایک ایسا انصاف کا مضمون ہے جو فضل کے