خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 760
خطبات طاہر جلد 15 760 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء مغفرت کے طالب کے لئے اپنے گناہوں پر نظر رکھ کر ان کو کم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔اس کوشش میں وہ کامیاب نہ بھی ہوتو اللہ کی مغفرت اسے ڈھانپ سکتی ہے لیکن نیت کا خلوص لازمی ہے۔نیت صاف ہو، کچی ہو، کوشش ضرور ہو اور جاری رہے اور کسی مقام پر ٹھہرے نہیں اور کوشش یہ ہو کہ رفتار بڑھتی رہے ، کم نہ ہو۔یہ ہے وہ مضمون جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مغفرت کا وعدہ ہے جو لا متناہی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس حد تک لا متناہی کہ کائنات کی وسعتوں پر محیط ہے اور انسانی جنت بھی جو انسان کو ملے گی وہ بھی کائنات کی وسعتوں پر محیط ہے لیکن اس کا دائرہ بڑھ رہا ہے اور آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔فضل یہ کہتا ہے کہ ایسی باتیں کیا کرو جو پیاری لگیں۔بعض دفعہ کسی کی ایک ادا ہی ایسی پیاری لگتی ہے کہ انسان اس کو اپنا دل دے بیٹھتا ہے اور ہمیشہ کے لئے اسی کا ہو جاتا ہے۔چھوٹی سی بات ہوتی ہے۔اب وہ بادشاہ جہانگیر جس نے نور جہاں کو دل دے دیا تھا۔ایک لونڈی تھی۔دل اتنی سی بات پہ دیا کہ اس سے ایک بھولے پن کی ادائگلی۔اس نے اس کو دو کبوتر پکڑا ئے تھے کہ یہ کبوتر میں تمہارے پاس رکھا رہا ہوں ان کو ذرا مضبوطی سے پکڑے رکھنا میں ابھی کام کر کے آؤں گا تو تم سے لے لوں گا۔اس بے چاری سے، ڈھیلا ہاتھ تھا، وہ شاید رحم دل تھی زور سے نہیں پکڑا ایک کبوتر ہاتھ سے نکل کر اڑ گیا۔جب بادشاہ واپس آیا تو اس نے اس سے پوچھا کہ ہیں ! ایک کبوتر !! میں تو تمہیں دو دے کے گیا تھا۔اس نے کہا اڑ گیا ، کہ کیسے اڑ گیا ؟ اس نے دوسرا ہا تھ چھوڑ دیا کہ ایسے اڑ گیا۔کیسے کا مضمون یہ مجھی کہ طریقہ پوچھ رہے ہیں کیسے اڑا۔اس ادا پہ وہ بجائے اس کے کہ ناراض ہوتا فریفتہ ہو گیا اور اس سے وہ شادی ہوئی جس کے نتیجہ میں ہندوستان کی تاریخ میں عظمتوں کے رنگ بھرے گئے۔بہت عظیم شادی تھی یہ بادشاہوں کی تاریخ میں اور بات ایک بھولی سی ادا تھی جو بظاہر نقصان کی تھی۔تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسے پیار سے بعض دفعہ دیکھتا ہے کہ چھوٹی سی ادا بھی اس کو پیاری آتی ہے جو بظا ہر نقصان کی ادا ہے۔اس مضمون کو آنحضرت مہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑے لطف سے اس بندے صلى الله کو دیکھ رہا ہے بہت ہی پیار کرتا ہے، پیار سے اس کو یہ بات پسند آئی کہ ایک دعا کرنے والے نے اس جوش میں کہ میں اپنا انکسار ظاہر کروں خدا کو یہ کہنے کی بجائے کہ اے میرے رب! تو میرا رب میں تیرا بندہ، یہ کہ دیا کہ اے میرے رب میں تیرا رب اور تو میرا بندہ۔اب کتنا کفر کا کلمہ ہے ،مولوی ہوتا تو وہیں