خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 70
خطبات طاہر جلد 15 70 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء تو جن بھی بڑی خطرناک چیز ہے مگر اگر آپ کو پتا ہو کہ جن ہے کیا ؟ ورنہ اور جن اگر آپ تلاش کرتے پھریں کہ باہر سے کوئی جن آیا تھا یا نہیں آیا تھا تو کچھ بھی نہیں ملے گا آپ کو اور آپ کو پتا بھی نہیں لگے گا کہ جن آزاد ہے حالانکہ آپ کی خاطر قید کیا جانے والا جن یہ غصے کا جن ہے اور شیطان نفس امارہ کا شیطان ہے۔یہ دونوں قید ہو جائیں تو آگ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ان کا آپس میں تعلق ہے۔ہر ایک کے لئے آگ کے دروازے بند نہیں ہوتے جن کا جن قید ہو جائے ،جن کا شیطان پکڑا جائے ان کے لئے آگ کے دروازے بھلا کیسے کھل سکتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں یہ ایک طبعی نتیجہ ہے۔نفس امارہ کو لگا میں دے دیں اور غصے کو قابو میں کر لیں تو اس کے نتیجے میں لازم ہے کہ آپ سے ایسی نیکیاں سرزد ہوں جو خدا کے ہاں آپ کو مقبول بنا دیں چنانچہ فرمایا جنت کے دروزے کھول دیئے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور ایک منادی کرنے والا منادی کرتا ہے اسے خیر کے طالب آگے بڑھ اور اے شر کے چاہنے والے رک جا اور اللہ کے کئی ایسے بندے ہیں جنہیں آگ سے نکالا جاتا ہے یہ ہر رات کو ہوتا ہے۔تو یہ ایسی تجربہ گاہ ہے رمضان جس میں انسان کو موقع ملتے ہیں اپنے اوپر تجربات کرنے کے ،نیکیوں میں آگے بڑھنے کے، بدیوں سے روکنے کے تجربے ، غصے کی حالتوں پہ قابو پانے کے نفس امارہ کے خلاف ایک جہاد کرنے کا موقع ، ان موقعوں سے جو کامیابی سے گزر جاتا ہے اس کے متعلق کیا ہی سچ فرمایا ہے کہ ایسے بندے ہیں جنہیں آگ سے نکالا جاتا ہے۔ہر رمضان ایک شخص کو ہمیشہ کے لئے جہنم سے نکال لیتا ہے اس جہنم سے جس کی طرف وہ روز مرہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کا کوئی اس کو خیال نہیں ہوتا کوئی شعور نہیں ہوتا اور فرمایا ایسا ہر رات کو ہوتا ہے۔پس بڑے ہی وہ خوش نصیب ہیں جو رمضان کی راتوں میں کسی رات کو اُٹھ کے جب تہجد پڑھ رہے ہوں تو دل پر ایک ایسی کیفیت طاری ہو جائے کہ انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دے۔ان کو خواب غفلت سے بیدار کر دے۔انہیں احساس ہو کہ اب مجھے لازماً ایک نئے وجود کے طور پر زندہ رہنا ہوگا اور اس پہلو سے اس احساس کے بعد جب وہ خدا تعالیٰ سے مدد مانگتا ہے تو ہر رات خدا کے ایسے بندے ہیں جن کے متعلق یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہ جہنم سے نکل گئے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا