خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 751 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 751

خطبات طاہر جلد 15 751 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء کرے کہ سب سے آگے بڑھ جائے۔سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمُ اپنے رب کی طرف سے مغفرت میں مقابلہ کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھو۔وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ اور جنت کی طرف آگے بڑھو جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کی طرح ہے۔اس میں بہت سے پہلو ہیں جو تفصیل طلب ہیں ان کی تفصیل میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں مگر یا درکھیں کہ یہاں جنت کو اور مغفرت کو گویا ایک دوسرے کا متبادل پیش کیا گیا ہے یعنی اگر تم مغفرت کی طرف تیزی سے آگے بڑھو گے جنت کی طرف بھی آگے بڑھو گے اور گویا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور جہاں تک یہ مضمون ہے کہ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اگر چہ اسے محض جنت کی وسعت کے بیان کے تعلق میں پیش کیا جاتا ہے مگر میرے نزدیک اس کا تعلق ویسا ہی مغفرت سے ہے کیونکہ مغفرت کی وسعت کے ساتھ جنت کی وسعت کا تعلق ہے۔جتنی بھی کسی کو خدا کی رحمت سے مغفرت نصیب ہوگی اسی قدر اس کی جنتوں کو وسعت ملے گی اور یہ دونوں مضامین ایک دوسرے سے باہم پیوستہ ہیں اور مغفرت کا تعلق چونکہ رحمت سے ہے اور رحمت ہر چیز پر حاوی ہے اور جنت بھی رحمت ہی کے نتیجہ میں ہے اس لئے یہ دونوں مضامین ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔یہ وہ جگہ ہے جہاں اعمال کا ذکر نہیں اور جنت کا ذکر ہے۔یہی وہ ایک مقام ہے جہاں کسی اور مضمون کے بیان کرنے کی بجائے محض مغفرت ہی کو جنت کی کنجی کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے۔اس لئے اس کو بہت غور سے سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس مضمون کو میں نے یہاں اس لئے اٹھایا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو اقتباس میں آپ کے سامنے رکھ رہا تھا اس میں خوف کے بہت سے پہلو ہیں اور جوں جوں وہ اقتباس آگے بڑھتا چلا جاتا ہے انسان بہت زیادہ خوف زدہ ہوتا چلا جاتا ہے کیونکہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تجزیہ کر کے ، کھول کھول کر انسانی نفوس کے دھو کے اور وہ گناہ بیان کئے ہیں جن میں وہ ملوث ہوتا ہے اس کو پڑھتے پڑھتے ہر انسان کی طبیعت خوفزدہ ہو جاتی ہے کہ کہیں نہ کہیں اسے اپنی تصویر دکھائی دیتی ہے۔وہ ساری بیماریاں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہیں وہ تمام تر ایک شخص میں اگر ہوں تو وہ شیطان کا دوسرا مظہر ہوگا ایک اور شیطان اور اس شخص کے دو نام ہوں گے گویا کہ وجود ایک ہی