خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 750 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 750

خطبات طاہر جلد 15 750 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء جماعت احمدیہ پین کا بارھواں (12) سالانہ جلسہ شروع ہو رہا ہے اور ان دونوں جماعتوں نے بار بار اصرار کیا ہے کہ اس خطبہ جمعہ میں ان کا بھی ذکر خیر چلے اور ان کو مخاطب کر کے بھی کچھ باتیں کی جائیں۔پس مضمون تو وہی رہے گا اس کے حوالے سے ان کو بطور خاص مخاطب کرنے کے لئے مجھے یاد آیا تو موقع محل کے مطابق وہ ذکر کروں گا مگر اس ابتدائی عمومی ذکر میں ہی ان لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ ذکر جو آج یہاں چل رہا ہے یہ ساری دنیا میں اس وقت جہاں جہاں بھی جماعت احمدیہ کا سیٹلائٹ کے ذریعہ رابطہ قائم ہے وہاں چل رہا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں چوبیس گھنٹے کے ہر منٹ یا ہر لمحے میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ باتیں پہنچ رہی ہیں اور جہاں جہاں بھی احمدی انہیں سن رہے ہوں گے طبعا ان کے دل میں ان دونوں جماعتوں کے لئے خصوصیت سے دعا کی تحریک ہوگی اور یہ غالباً ان کا مقصد ہے۔باقی نصیحتیں تو سب کے لئے مشترکہ ہی ہوا کرتی ہیں ہاں اگر کوئی ایسی بات ذہن میں آئی جو ان دونوں جماعتوں کو بطور خاص کہنی ہو تو انشاء اللہ میں اس کا ذکر کروں گا۔یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سَابِقُوا الی مَغْفِرَةٍ - سَابِقُوا میں تیزی سے بڑھنے کا مضمون ہے اور ایک دوسرے سے مسابقت کا مضمون بھی ہے۔سبق کہتے ہیں ایسے شخص کو جو تیزی سے آگے نکل گیا یعنی ایک شخص جو آگے نکل جائے تیزی سے خواہ وہ شخص ہو یا گھوڑا بھی ہو اس کے لئے سبق کا لفظ آئے گا۔سبقت لے گیا۔مگر سبق کا مطلب ہے کہ مقابلہ میں سبقت لے گیا تو یہ مضمون زیادہ تحریص کی خاطر، زیادہ توجہ دلانے کی خاطر ایسا صیغہ بیان فرمایا ہے جس میں مغفرت کے تعلق میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کا مضمون داخل فرما دیا۔ہر شخص کے لئے مغفرت حاصل کرنے میں جلدی کرنی چاہئے لیکن سابقوا کہہ کر یہ فرما دیا کہ تم ایک دوسرے سے بھی مغفرت میں مقابلے کرو یعنی یہ مطلب نہیں کہ کھلم کھلے چیلنج دے کر مقابلے کرومگر کوشش کرو کہ اپنے ان بھائیوں سے آگے بڑھو جو ہمیشہ مغفرت طلب کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور مغفرت طلب کرنے کی تائید میں ان کے اعمال رونما ہوتے رہتے ہیں۔پس ایسا چیلنج نہیں کہ جو اکٹھا ایک لائن پر کھڑا کر کے بھگایا جارہا ہو۔مراد یہی ہے کہ ہر مومن کو محض یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ میں آگے بڑھ رہا ہوں بلکہ باقیوں کو دیکھ کر اپنی حیثیت کی تعیین کرے۔اگر مغفرت کے میدان میں اسے اپنے سے آگے بہت سے دکھائی دے رہے ہوں تو پھر مقابلہ کرے اور یہ کوشش