خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 744 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 744

خطبات طاہر جلد 15 744 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء کی تجارت نہ صرف چلتی ہے بلکہ باقی تجارتوں پر غالب آجایا کرتی ہے۔قادیان میں ایسے فقیرانہ مزاج کے مہاجر تھے جو بڑے عزت والے خاندانوں سے وابستہ ،سید زادے اور بعض معزز پٹھان شہزادوں سے تعلق رکھنے والے قادیان آئے دودھ دہی کی دکان کھولی اور اتنا لوگ امڈ امڈ کر آتے تھے کیونکہ ان کی دیانت اور تقویٰ کی وجہ سے وہاں ہر چیز صاف ستھری اور خالص اور اس کے نتیجہ میں باقی دکانوں سے زیادہ مزے دار ملتی تھی۔تو اسی سے انہوں نے پھر جائیدادیں بنائیں ، اسی سے ان کی اولادیں بڑی بڑی تعلیم حاصل کر کے دنیا میں پھیل گئیں۔تو دو طریق سے اللہ تعالیٰ تقویٰ کی زندگی بسر کرنے والوں کی مددفرماتا ہے ایک تو یہ کہ اگر واقعہ کچی دیانت ہو تو ایسی تجارتوں میں خدا برکت عطا فرما دیتا ہے اور جو اس تجربہ کو جانتے نہیں وہ دور بیٹھے ڈر کر ان باتوں سے ویسے ہی احتراز کر جاتے ہیں، پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور دوسرا آسمان سے لازماً برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ان کے اموال میں برکتیں پڑتی ہیں۔ان کے زندگی کے حالات میں ، ان کی اولاد میں ، ان کی صلاحیتوں میں، اور ان کی دین سے وابستگی اور وفا میں برکتیں پڑتی ہیں اور ایسے بچے پیچھے چھوڑ کے جاتے ہیں جو نسلاً بعد نسل دنیا میں بھی اعلی ترقی حاصل کرتے ہیں اور دین میں بھی وہ آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔تو چھوٹی چھوٹی باتوں میں جو دیانت کی معمولی باتیں ہیں اب دودھ دہی کی دکان کیا ہوئی مگر دیکھو آپ حالات پر نظر ڈال کے دیکھیں ان کی اولادوں کا جائزہ لیں وہ دنیا میں پھیلی گئی ہیں۔وہ بڑی عزت اور عظمت سے یاد کئے جانے والے لوگ ہیں۔اب ان کا نام آپ کو تاریخ احمدیت میں ملے گا تو آپ کا سر جھکے گا ادب سے اور آپ میں سے اکثر کو شاید پتا ہی نہ ہو کہ وہ ایک دودھ کی دکان کرنے والا آدمی تھا۔کچھ کھیر بنانی سیکھ لی، کچھ دہی اچھی بنانی سیکھ لی اور اسی سے خدا تعالیٰ نے اس کے گھر کو برکتوں سے بھر دیا۔اب ہمارے ماٹا ہوتے تھے، ان کی اولاد دیکھیں خدا نے کیسی پھیلا دی ہے دنیا میں ، اور کتنی ان کو برکتیں دی ہیں وہ آلو چنے بیچنے والے تھے بس ، مگر تھے دیانتدار۔تو دیانت میں بہت سی برکتیں وابستہ ہیں جو فوری بعض دفعہ دکھائی نہیں دیتیں مگر ہوتی ضرور ہیں اور یہ سفر اس لئے ضروری ہے کہ انفرادی طور پر برکتوں کی خاطر نہیں خدا کی خاطر جب آپ دیانت اختیار کریں تو برکتیں ضرور ملتی ہیں۔مگر اگر یہ نہیں کریں گے تو ساری قوم لازماً بددیانت