خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 69
خطبات طاہر جلد 15 69 69 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء ہر مومن کے اندر بھی ایک شیطان ہے جو ہمہ وقت اس کو آسانیوں کی طرف بلاتا اور خدا کی راہوں میں تکلیفوں سے ڈراتا ہے۔ہر وقت اس کو من مانی کرنے کی تلقین کرتا اور اطاعت کے رستوں سے پیچھے ہٹاتا ہے۔یہ شیطان ہے جو قید ہو جائے اور اگر اسے عمر قید ہو جائے تو پھر آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث صادق آئے گی۔الدنيا سجن للمومنين وجنته الكافر۔دنیا تو مومن کے لئے ساری زندگی قید ، خانہ بن جاتی ہے۔پس عجیب بات ہے کہ لفظ مومن اور شیطان یہاں دونوں بظاہر ایک دوسرے پر انطباق کر رہے ہیں مگر معنی اگر سمجھ لئے جائیں تو اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔مومن کے اندر نفس امارہ کا شیطان ہے جو زندگی بھر ہمیشہ قید رہتا ہے اور ان معنوں میں دنیا مومن کا قید خانہ بنتی ہے۔پھر ایک اور حدیث میں اسی مضمون کو یوں بیان فرمایا گیا ہے یہ بھی حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطان اور جن جکڑ دیئے جاتے ہیں اور آگ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔(سنن الترمذى كتاب الصوم باب ماجاء في فضل شهر رمضان ) شیطان اور جن ! یہ جن کیا چیز ہے جو شیطان کے ساتھ جکڑا جاتا ہے۔شیطان اگر نفس امارہ ہے تو جن غصے کی حالت میں اور اشتعال کی حالت میں اپنے حواس کو بے قابوکر دینا یا حواس پر سے قابو اٹھا لینے کا نام ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے غصے کو بھی ”جن“ کے لفظ سے یاد فرمایا ہے۔پس شیطان کے علاوہ جن اس طرح قید ہوتا ہے کہ بعض لوگ جو ہیں بڑی جلدی مشتعل ہونے والے لوگ ہوتے ہیں اور مغلوب الغضب ہوتے ہیں مگر روزے کی حالت میں جب کوئی ان سے ایسی بات کہے جس کو وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری بے عزتی ہو گئی ، ہم پر چوٹ ماری گئی ہے تو اچانک آنحضرت ﷺ کی آواز سنائی دیتی ہے کہ کوئی غصہ کرے، کچھ زیادتی کرے تم نے آگے سے ویسا جواب نہیں دینا۔تم یہ کہو میں روزے سے ہوں، میں مجبور ہوں۔تو قید جو ہے وہ جن کی بھی ساتھ ہوگئی ہے اور جن سے مراد غصے کا جن ہے۔تو اشتعال کی حالت میں جو لوگ بدیاں کرتے اور بعض دفعہ ایسے ظلم کر جاتے ہیں کہ پھر ہمیشہ ہمیش کے لئے وہ اپنے جن کی سزا پاتے رہتے ہیں۔ایک اشتعال کی حالت کا فعل عمر بھر کی قید میں اس کو مبتلا کر سکتا ہے یا پھانسی کے تختے پر لٹکا سکتا ہے یا اور کئی قسم کے عوارض میں مبتلا کر سکتا ہے کئی قسم کے پچھتاوے لگ جاتے ہیں۔