خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 732
خطبات طاہر جلد 15 732 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء آگے بڑھیں تو پھر ان کے لئے اس آیت کا اگلا حصہ ہے جو اطلاق پاتا ہے۔وَانِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، ہے تو بہت بخشنے والا لیکن اللہ کی طرف تو بہ کرتے ہوئے جھک جاؤ اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دو۔أَسْلِمُوا میں فرمانبرداری بھی ہے اور سپردگی بھی ہے۔اس کے سپر د کر دو اپنے آپ کو ، اس پر پھینک دو کہ اب تو تو نے ہی کچھ کرنا ہے ، کرنا ہے ہم سے تو یہ داغ مٹتے نہیں اور أَسْلِمُوا میں پھر دعا کا مضمون داخل ہو جاتا ہے۔جب آپ کسی کے سپر د اپنے آپ کو کر دیں تمام تو کل اس پر کریں تو ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب تو تیرے سوا کوئی سہارا رہا ہی نہیں ہم نے اپنا سارا وجود تیرے حوالے کر دیا اس لئے تو مددگار ہو جا۔پس اسلِمُوا کے نتیجے میں جو عاجزانہ دعائیں اٹھتی ہیں وہ بخشش کے لئے اور گناہوں سے بچنے کے لئے بہت ہی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔فرمایا یہ کر لو مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ اس وقت سے پہلے کہ عذاب آجائے۔جب عذاب آجائے گا تو پھر بچ نکلنے کا، پھر بخشش کا کوئی وقت باقی نہیں رہے گا۔ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ پھر تم کسی طرف سے مدد نہ دیئے جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ پھر اللہ تمہاری مدد نہیں کرے گا۔تم لا تُنصَرُونَ جب پکڑ کا وقت آئے گا تو پھر کوئی بھی تمہارا مددگار نہیں ہوگا۔جب اللہ مددگار نہیں ہوگا تو کسی اور کو بھی توفیق نہیں ہوگی کہ وہ تمہاری مدد کر سکے اور تُنصَرُونَ میں وہ دعا والا مضمون بھی ظاہر ہو گیا جس کی طرف میں نے اَسْلِمُوا کے حوالے سے اشارہ کیا تھا۔اَسْلِمُوا میں جو سپردگی ہے اس کے ساتھ دعا کا ایک لازمی تعلق ہے اور تُنصَرُونَ کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں جو گنا ہوں سے تو بہ کی توفیق ملے گی اللہ کی مدد کے بغیر نہیں مل سکتی۔اگر عذاب سے پہلے پہلے تو بہ کرو گے تو اللہ کی مدد تمہیں نصیب ہوگی اور وہ مدد ہی ہے جس کی وجہ سے تم گناہوں سے نجات پاسکتے ہو۔اگر وہ مدد نہ آئی اور تم نے مدد نہ مانگی یعنی تم نے اس کی طرف توجہ ہی نہ کی اور پکڑ کا وقت آگیا تو پھر نہ خدا کی طرف سے کوئی مددا ترے گی نہ دنیا کا کوئی بچانے والا تمہیں بچا سکے گا۔اس لئے بہت ہی اہم اور گہرا مضمون ہے اور جونفس کی تربیت کا مسئلہ ہے یہ ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے۔شاذ ہیں جو معصوم ہیں یعنی انبیاء علہیم السلام باقی سب کسی نہ کسی پہلو سے غیر محفوظ رہتے ہیں اور جب تک دعاؤں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے سہارے تلاش نہ کریں اور اس کی پناہ گاہ کی طرف ان کی نظر نہ رہے اور جب وہ یہ کہیں اعوذ بالله من الشیطن الرجیم تو اس کی پناہ گاہ پر نظر ہو پھر دعا