خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 733
خطبات طاہر جلد 15 733 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء کریں ورنہ منہ سے کی ہوئی دعا کے کوئی بھی معنے نہیں بنتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں تمہارے منہ کی باتوں سے خدا خوش نہیں ہوسکتا، کچھ بھی نہیں ہوگا۔تو میں نے جو پناہ گاہ پر نظر کا محاورہ استعمال کیا ہے یہ ایک اہم بات ہے جواب سمجھانا چاہتا ہوں۔اللہ پناہ گاہ ہے اور جب آپ کہتے ہیں کہ ہم شیطان سے تیری پناہ میں آتے ہیں اور تیری پناہ مانگتے ہیں تو ہر گناہ کے مقابل پر ایک پناہ گاہ ہوا کرتی ہے اور ہر گنہگار جواپنے گناہ کو جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس گناہ کی پناہ گاہ کیا ہے۔پس جب وہ اس پناہ گاہ پر نظر رکھے گا، کسی خاص گناہ کے حوالے سے جانے گا کہ اس حفاظت میں آؤں گا تو میں بچوں گا تو اس کی دعا معنی خیز ہو جائے گی وہ صرف منہ کی باتیں نہیں رہیں گی۔پھر جب وہ کہے گا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم تو شیطان رجیم کے ان خطرات سے وہ پناہ میں آئے گا جو اس کے ذہن میں حاضر ہوں گے۔وہ جانتا ہوگا کہ ان سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ کی یہ رحمت نازل ہو تو پھر میں ان سے بچ سکتا ہوں اور اس کے نتیجہ میں ایک اور مضمون بھی انسان کے ذہن پر روشن ہوتا ہے جو قرآن کریم کی ان ہدایات سے تعلق رکھتا ہے جو ہر گناہ سے بچنے کے تعلق میں ہیں۔پس دعا کے ساتھ انسان کو عرفان نصیب ہونا چاہئے۔دعا کے ساتھ انسان کا ذہن زیادہ روشن ہونا چاہئے اور وہ روشنی اس طرح ملتی ہے آپ کہتے ہیں اے خدا فلاں گناہ ہے میں تو گھیرے میں آ گیا مجھے معاف کر دے مجھے بچالے لیکن پھر کیسے خدا بچایا کرتا ہے ان گناہوں سے۔قرآن کریم میں جو انبیاء کے اور ان کی قوموں کے حالات کے ذکر ہیں ان گنہگاروں کے اور ان کے بچنے کے حالات مذکور ہیں وہ ساری معین پناہ گاہیں ہیں جن میں آپ پناہ ڈھونڈ سکتے ہیں۔دیکھیں حضرت یوسف نے بھی ایک دعا کی تھی اور عجیب دعا ہے کہ جیل خانے کو پناہ گاہ سمجھا اور اے خدا میں ان کے شر سے بچنے کی تیری مدد کے بغیر طاقت نہیں رکھتا۔جو میرا ذ ہن کام کرتا ہے وہ تو یہ ہے کہ اگر جیل خانے میں جانا پڑے اس بدی سے بچنے کے لئے تو میں تجھ سے یہی مانگتا ہوں۔اب معلوم ہوتا ہے کہ ان عورتوں کا مکر اتنا شدید تھا اور ان کی جو دنیاوی کشش تھی وہ اتنی فتنہ پرداز تھی کہ ایک نبی نے جب دعا مانگی ہے تو پناہ گاہ کا تصور سامنے رکھ کر دعا مانگی ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے تجربہ سے معلوم ہو چکا تھا کہ ان شیطانوں سے بچ نکلنے کی نہ مجھ میں طاقت ہے اگر خدا مدد نہ کرے اور نہ ان حالات میں مجھے کوئی پناہ گاہ نظر آرہی ہے سوائے