خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 724
خطبات طاہر جلد 15 724 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء والے بھو سے میں تبدیل ہو چکی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں، میں آپ کے اقتباسات میں سے چند آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کی ایک نصیحت جو حضرت ابن عمرؓ کو آپ نے کی۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں عنهما عمر پر بھی اللہ کی رحمت ہو ان کے بیٹے پر بھی اللہ کی رحمت۔آنحضرت ملے نے میرے کندھوں کو پکڑا اور فرمایا تو دنیا میں ایسا بن گویا تو پر دیسی ہے یا راہ گزر مسافر ہے۔پردیسی جو ہے وہ بے چارہ بے اختیار ہوتا ہے اس کا بھی کوئی اختیار نہیں۔راہ گزر مسافر کی بھی یہی کیفیت ہے وہ اپنی ملکیت میں نہیں پھر رہا ہوتا۔پر دیسی سے مراد ہے اس کے وطن کے حقوق نہیں ہیں وہ کسی اور وطن میں ہے۔مسافر سے مراد یہ ہے وہ چلتا پھرتا ہے لیکن کہیں بھی اس کا قیام نہیں ہے وہ کسی جگہ کو اپنا بنا کے وہاں ٹھہر نہیں سکتا۔تو دنیا کی بے ثباتی کا یہ نقشہ آنحضرت ﷺ نے کھینچا اور ایک چھوٹی عمر کے بچے کو کندھے سے پکڑ کر بتایا کہ ساری زندگی اسی طرح رہنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس تعلق میں فرماتے ہیں یعنی ایک یہ روایت ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے متعلق جو یوں درج ہے کہ ایک معزز خاندانی ہندو دیوان صاحب جو صرف حضرت کی ملاقات کے واسطے قادیان آئے تھے قبل نماز ظہر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خواہش ظاہر کی کہ ان کو کچھ نصیحت کی جائے۔حضرت نے فرمایا ہر ایک شخص کا ہمدردی کا رنگ جدا ہوتا ہے۔( ہر ایک شخص کی ہمدردی کا رنگ جدا ہوتا ہے اور آگے جو رنگ ہے وہ بتارہا ہے کہ یہ کون شخص ہے جس کی ہمدردی کا یہ رنگ ہے۔اگر آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ آپ کے ساتھ یہی ہمدردی کر سکتا ہے کہ آپ کی کسی بیماری کا علاج کرے اور اگر آپ حاکم کے پاس جائیں تو اس کی ہمدردی یہ ہے کہ کسی ظالم کے ظلم سے بچائے۔ایسا ہی ہر ایک کی ہمدردی کا رنگ جدا ہے۔ہماری طرف سے ہمدردی یہ ہے کہ ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ دنیا روزے چند ہے اگر یہ خیال دل میں پختہ ہو جائے تو 66 تمام جھوٹی خوشیاں پامال ہو جاتی “ تمام جھوٹی خوشیاں پامال ہو جاتی “ کیونکہ جس کو یہ پتا ہو کہ یہ جو میں نے سب کچھ حاصل