خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 718 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 718

خطبات طاہر جلد 15 718 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء استفادہ نہیں کر سکتا اس کو اگر انسان پیش نظر رکھے تو دنیا میں اس کے رہنے کے سلیقے بدل جائیں ،اس کے آداب تبدیل ہو جائیں، اس کی سوچیں مختلف رستوں پر چلیں گی پھر۔پھر وہ دنیا میں ایسا رہے گا کہ وہ بنی نوع انسان کے لئے فائدہ دے گا اور ہر حال میں ہمیشہ اٹھنے کی تیاری رکھے گا۔ایسا شخص جس کو یہ نہ پتا ہو کہ میرا کوچ کا حکم کب آتا ہے اس کو ہمیشہ تیار رہنا پڑتا ہے۔اس سلسلے میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی ایک بات میں نے آپ کے سامنے پہلے بھی بیان کی تھی وہ لاعلم آدمی تھے مگر بہت ہی باطنی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے علم یافتہ تھے۔بہت ذہین اور عالم اور منصف مزاج سکھ بادشاہ تھے۔وہ ایک دفعہ پگڑی باندھ رہے تھے بہت بڑی پگڑی باندھتے تھے تو کسی حواری نے ان سے سوال کیا کہ آپ جو اتنا لمبا کام کر رہے ہیں غالباً وہ ان کے مسلمان مرید تھے۔ان کی طرف سے سوال تھا کہ اتنی لمبی جو پگڑی باندھتے ہیں اگر اچانک پتا چلے کہ فلاں جگہ یہ واقعہ ہو گیا تو کیا کریں گے آپ ، پگڑی باندھتے باندھتے بڑا وقت لگتا ہے۔تو اپنی تلوار سے جو ساتھ ہی تھی یوں پگڑی کاٹ کے کہا کہ میں یوں کروں گا کہ جہاں وقت آیا وہیں پگڑی ختم اور جو ضرورت کی آواز ہے اس کی طرف متوجہ ہو جاؤں گا تو ہمہ وقت تیار رہنے کا جو مضمون ہے وہ اس مثال سے بھی نظر آتا ہے۔کاروبار تواب ہمیشہ انسانی زندگی سے آگے بڑھے ہوتے ہیں۔م سامان سوبرس کا ہے پل کی خبر نہیں (حیرت الہ آبادی) مگر وہ لوگ جو صاحب عرفان ہوں وہ ان سامانوں پر بھروسہ نہیں کرتے اپنی زندگی پر بھروسہ نہیں کرتے ذہنی طور پر تیار رہتے ہیں کہ جہاں بھی وقت ختم ہوا پگڑی بھی و ہیں ختم ہو جائے گی اور پھر اس کو آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔ایسی تیاری کی حالت میں انسان زندگی بسر کرے تو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کامیاب ہوتا ہے اور جب بھی مرے وہ اپنے حساب کے لئے تیار رہتا ہے۔جولوگ غفلت کی حالت میں اس مضمون سے لاعلمی کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں ان کا حساب تیار ہی نہیں ہوتا کبھی بعض لوگوں سے آپ پوچھیں وہ ہر وقت ذہنی طور پر تیار رہتے ہیں اپنے کاروبار میں وہ سمیٹے رکھتے ہیں کاموں کو اور جو کام آگے آنے والے ہیں ان کے متعلق وہ بعض دفعہ ہدایتیں چھوڑتے جاتے ہیں تا کہ کسی وقت بھی بلا وا آئے تو پچھلوں کو تکلیف کا سامنا نہ ہو، جو کچھ حساب ہے صاف ہے،سب کو پتا ہو کہ کیا میں چاہتا تھا، کیا کرنا ہے لیکن جو لوگ غافل ہیں نہ وہ اپنی دنیا کے کاروبار کو سنبھال سکتے ہیں کیونکہ جب بھی خدا کی طرف