خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 713 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 713

خطبات طاہر جلد 15 713 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء اب اس میں یہ نہیں فرمایا کہ نباتات محض پانی سے پیدا ہوئی ہیں۔نباتات کی بنیاد پہلے رکھی جا چکی تھی۔نباتات کا بیج موجو دتھا اور اگر کہیں بچ نہ ہوتو پانی کچھ بھی نہیں کر سکتا۔جتنا چاہے پانی اترے اگر وہ صلہ پر اتر تا ہے چٹیل چٹان پر اترتا ہے اسے زندگی نہیں بخش سکتا اور یہی حال آسانی پانی کا بھی ہے۔اگر فطرت میں نیکی کا بیج ہوگا تو پھر آسمان کا پانی فائدہ دے گا، اگر نیکی کا بچ نہیں ہوگا تو وہ اسی طرح بنجر کا بنجر رہے گا پانی خواہ لاکھ اس پر اترے اسے کوئی زندگی نہیں بخش سکتا۔پس زندگی کی گہری حقیقتیں اس آیت میں بیان ہوئی ہیں اور جتنا ان پر غور کریں اتنا ہی ان امور کو جب سب ایک آیت میں سمیٹے گئے ہیں قوانین قدرت کے مطابق ہی نہیں بلکہ قوانین قدرت کے گہرے راز بیان کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ما يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ پھر اس ابتدائی زندگی کی شکل سے بلند درجے کی زندگی استفادہ کرتی ہے اور تھوڑی ادنی زندگی اس بالا شعر کو پیدا کر دیتی ہے جو انعام میں دکھائی دیتا ہے اور پھر ان سے بڑھ کر انسانوں میں اور آخری نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی بناء آسمان پر ہے اس کی زندگی کی بناء اس آسمان پر ہے۔جو پانی اترتا ہے وہ کئی مراحل سے گزرتے ہوئے اس کی نشو ونما کا سامان کرتا ہے پہلے نباتات اور پھر حیوانات۔اگر نباتات نہ ہوں تو براہ راست پانی سے حیوانات زندگی نہیں پاسکتے اور اگر نباتات ہوں اور حیوانات ہوں تو انسان اول تو بن ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کی اعلیٰ درجے کی ایک صورت ہے اور دوسرے حیوانات کو انسانی زندگی سے نکال دیں تو انسانی زندگی کے محض نباتات پر نہیں پل سکتی۔ایک پیج کا درجہ ہے جو نباتات کو پروٹینز میں بدلنے کے لئے اور اعلیٰ درجے کی زندگی کی غذا ئیں بنانے کے لئے حیوانات کی صورت میں بیچ میں داخل فرمایا گیا ہے۔فرماتا ہے یہ ہے تمہاری زندگی کی حقیقت۔پھر اس میں سے انسان بھی کھاتے ہیں اور حیوان بھی کھاتے ہیں۔اب نباتات میں سے پہلے انسانوں کے کھانے کا فرمایا ہے کیونکہ اصل مقصود انسان ہی ہے اور جو آسمانی پانی ہے اس کی غذا تو خالصہ انسان ہی کے کام آتی ہے اس لئے اولیت انسان کو دی ہے حالانکہ حیوانات کو ایک پہلے نچلے درجے کے طور پر قرآن کریم پیش فرماتا ہے۔مگر جہاں تک مقصود ہے جہاں تک اس کائنات کے نقشے کی آخری غرض وغایت ہے وہ چونکہ انسان کی پیدائش ہے اور اس کا اللہ سے تعلق قائم کرنا ہے اس لئے جہاں غرض کا بیان ہوا ہے وہاں انسان کو پہلے رکھ دیا۔اس میں سے انسان بھی کھاتے ہیں اور حیوان بھی۔حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَيَّنَتْ یہاں تک کہ جب زمین کی جو سبزی ہے وہ پر رونق ہو جاتی ہے اور زینت اختیار کر جائے اس میں خوبصورتی پیدا ہو جاتی ہے۔وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قُدِرُونَ