خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 711
خطبات طاہر جلد 15 711 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء الله آسمان سے جو پانی محمد رسول اللہ ﷺ پر اتر اوہ آج جماعت احمدیہ کی روحانی زندگی میں اپنی نشو و نما دکھارہا ہے (خطبہ جمعہ فرموده 13 ستمبر 1996ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انورن نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَا اَنْزَلْنَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَدِرُونَ عَلَيْهَا أَتْهَا أَمْرُنَا لَيْلًا اَوْنَهَارًا فَجَعَلْنَهَا حَصِيْدًا كَانْ لَّمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ كَذَلِكَ نُفَصِلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ پھر فرمایا: (یونس: 25) یہ سورۃ یونس کی پچیسویں آیت ہے جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔زندگی کی نا پائیداری سے متعلق قرآن کریم میں اور بھی بہت سی آیات ہیں جن کا انسانی زندگی کی نا پائیداری سے اور پھر اچانک خدا کے حضور جواب دہی کی حالت میں حاضر ہونے سے تعلق ہے۔یہ وہ آیت ہے جس کا زندگی کے ہر شعبے سے تعلق ہے ، زندگی کی ہر قسم سے تعلق ہے اور اس عالم میں جو کچھ بھی ہے اس کی بے ثباتی کا ذکر ہے اور اچانک خدا کی تقدیر جب نازل ہوتی ہے تو پھر وہ لوگ جو صاحب فکر ہیں