خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 710
خطبات طاہر جلد 15 710 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء بہت غیر معمولی طور پر حصے دار تھیں اور عشق تھا ان کو نظام جماعت سے اور خلافت سے اور انکسار کا ایک عجیب عالم تھا تو اس لئے ان کے لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کی نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔ایک ہمارے سکول کے زمانوں کے پرانے دوست محمد اسحاق صاحب تھے۔چوہدری محمد اسحاق صاحب جو چوہدری الیاس کے والد جن کو خدا تعالیٰ نے بہت جماعت کی خدمت کی توفیق بخشی ہے۔وہ قادیان میں ہائی سکول میں میرے واقف تھے اور تعلقات تھے اور انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بہت اچھی کی ہے، غیر معمولی۔مگر اس کو آپ میرے ذاتی کھاتے میں ڈال لیں کیونکہ بچپن کے تعلقات کی وجہ سے میرا دل چاہتا ہے میں بھی ان کی نماز جنازہ میں شامل ہوں۔اور ایک ان کا الیاس کا بیٹا ، چھوٹا بیٹا جن کا نام دانیال تھا ، غیر معمولی اخلاص رکھنے والا انسان تھا وہ بہت تو کل۔کینسر تھا، کینسر کے جتنے علاج تھے سب تکلیف دہ تھے مگر ایک دفعہ بھی شکوہ زبان پر نہیں لا یا پوری طرح کامل راضی برضا، اتنا کہا کرتا تھا کہ میرے لئے حضرت صاحب کو دعا کے لئے لکھ دینا۔جب بڑا آپریشن ہوتا تھا تو کہتا تھا فون کر دیں اور میری طرف سے اطلاع ملتی تھی کہ میں دعا کر رہا ہوں تو پوری طرح سکون مل جاتا تھا، کہتا تھا مجھے بڑا ہی سکون ملتا ہے۔آخری لمحات خدا نے اس کے آسان فرما دیے۔لیکن اس کا جو راضی برضا ر ہنے کا انداز تھا اس نے اتنا میرے دل پر اثر کیا ہے کہ میرے دل سے یہ خواہش اٹھی ہے کہ میں اس مخلص کی بھی نماز جنازہ ادا کروں۔تو یہ تین ہوں گی نماز جنازہ غائب اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ سب کی دعائیں مل کر ان کی روحوں کے ثواب کا موجب بنیں گی۔آمین