خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 709
خطبات طاہر جلد 15 709 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء طاقت شامل ہو جائے تو اس نسبت سے جس حد تک آپ کا خدا سے پیوند ہے آپ کی طاقتیں لا متناہی ہوسکتی ہیں اور ہو جاتی ہیں اور مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ ہو جائیں گی۔پس تو کل کرتے ہوئے اگر آپ دعاؤں سے غافل نہ رہیں، اپنے بجز سے غافل نہ ہوں اور کامل طور پر توکل کا مضمون سمجھتے ہوئے اللہ سے التجا کرتے رہیں کہ خدا ہمارے کاموں کو سنوار دے تو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ وقت کے تقاضے ہم پورے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔تین نماز جنازہ پڑھنے کا میں نے فیصلہ کیا ہے غائبانہ، اگر چہ میں نے جماعت کو یہ نصیحت کی ہے کہ آئندہ سے مجھے درخواست نہ کیا کریں نماز جنازہ غائب کی کیونکہ یہ مضمون جو ہے یہ طاقت سے بڑھ چکا ہے اور ایک بہت بڑا پھر آگے ایک قسم کا اسلام کے اندر گویائی چیزیں داخل ہو جائیں گی مستقل حصہ بن کے۔اس لئے ان چیزوں سے گریز کریں ورنہ میرے لئے الجھن ہو جاتی ہے مجھے مشکل پڑ جاتی ہے۔کئی لوگ اس طرح جذباتی رنگ میں اپنے ماں باپ کی خدمتوں کا ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ میرے لئے ان کو رد کرنا ان کی دل شکنی کا موجب بن سکتا ہے ، قبول کرنا اس اپنے فیصلے کی خلاف ورزی ہے کہ میں آئندہ سے ان رجحان کو روکوں۔اس لئے میں دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ آپ لوگ درخواستیں نہ دیا کریں۔بعض فیصلے میں خود کروں گا۔نماز جنازہ پڑھنا غا ئب حرام تو نہیں ہے۔جائز ہے ممکن ہے لیکن موقع اور محل کے مطابق تو بعض دفعہ میں اپنے بعض ایسے تعلقات کی بناء پر جن کی وجہ سے میرا حق ہے کہ میں ان کو استعمال کر کے کسی کی نماز جنازہ پڑھوں۔بعض دفعہ کسی کی جماعتی خدمات کو جماعتی نقطہ نظر سے ایسا وسیع دیکھوں کہ میں یہ فیصلہ کروں کہ ہاں یہ حق دار ہے، رشتے داروں کی نظر میں نہیں بلکہ میری نظر میں بھی واقعہ یہ حق رکھتا ہو کہ غیر معمولی استثنائی حالات میں اس کی نماز جنازہ غائب پڑھی جائے۔تو اب میں یہ تو تفصیل بیان نہیں کروں گا کہ کس نقطہ نگاہ سے مگر زیادہ تر ذاتی تعلقات یا بعض پرانی خدمات میرے پیش نظر ہیں یا بعض فوت شدہ نوجوان کی غیر معمولی صلاحیتیں جنہوں نے دل پر غیر معمولی اثر کیا ہے اس لئے میں آج نماز جمعہ کے بعد تین مرحومین کی نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔ایک تو مکرم میاں محمد ابراہیم صاحب جمونی کی بیگم صاحبہ ہیں جو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ میاں ابراہیم جمونی صاحب کو بنانے میں اور ان کی اخلاص کے معیار کو بڑھانے میں اور قائم رکھنے میں