خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 707
خطبات طاہر جلد 15 707 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء کریں گے۔ایک آدمی جب پوچھتا ہے کہ بتائیں کون ذمہ دار ہے تو اس وقت جن لوگوں سے پوچھا جاتا ہے ان کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنے دوست یا تعلق والے پر پردہ ڈالیں۔رپورٹ یہ بھیج دیتے ہیں کہ ایک کارکن سے غلطی ہو گئی۔وہ ایک کارکن کون ہے۔آپ کے علم میں ہے تو میرے علم میں کیوں نہیں آتا ، اس کا نام کیوں نہیں لیتے ، اس کا بتاتے کیوں نہیں کہ اس کا پس منظر کیا ہے اور اندر اندر چھوٹی چھوٹی باتیں ایسی کرتے چلے جاتے ہیں کہ جب غلطیاں ظاہر ہوتی ہیں تو پتا چلتا ہے کہ چونکہ انہوں نے وہ ریفرنس نہیں کیا تھا اس لئے غلطیاں ہوئی ہیں۔جو ذہنی ریفرنس کی میں نے مثال دی تھی یہاں میں مضمون جوڑ کر آپ کو بتا رہا ہوں، بہت سے ایسے امور ہیں جہاں اگر خلیفہ وقت کو آپ ریفر کر دیا کریں وقت کے اوپر تو بہت بڑی بڑی خرابیوں سے بچ سکتے ہیں کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کچھ بھی حرج نہیں مگر خلیفہ وقت دیکھتا ہے کہ حرج ہے، اس کو بعد میں پتا چلتا ہے اور اس وقت بہت بڑا نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔تو ریفر کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں کہ جی ہم آپ کا وقت بچاتے ہیں۔اچھا وقت بچاتے ہیں کہ جو نقصان پہنچ گیا اس کے بعد جو روحانی عذاب میں مبتلا کر دیا جو جماعت کے نقصان کی تکلیف پہنچادی جو تحقیق کے وقت میرے وقت ضائع کئے وہ وقت ہی نہیں ہے میرا؟ تو اس لئے جب بات پوچھی جائے تو قَوْلًا سَدِيدًا سے کام لیں کہ جی ہاں یہ اختلاف ہوگیا تھا اس نے کہا میرا ڈیپارٹمنٹ ہے، اس نے کہا میرا ڈیپارٹمنٹ ہے ، اختلاف بتاتے نہیں۔اگر اختلاف بتا ئیں تو مجھے فورا پتا چل جائے گا کہ کس کی غلطی ہے۔تو اس لئے قولًا سَدِيدًا کی طرف میں آپ کو متوجہ کر رہا ہوں کہ انتہائی ضروری ہے کہ بڑھتے ہوئے نظام کے لحاظ سے صاف بات کہیں اور جہاں تک ممکن ہے خلیفہ وقت کو ریفر کریں اور جو اطلاعیں دیں وہ صحیح اور واضح دیں وہاں محض سچ کافی نہیں وہاں قَوْلًا سَدِيدًا لازم ہے کیونکہ انسانی جسم جو اپنے دماغ کو پیغام پہنچاتا ہے وہ خالصہ سچائی ہوتی ہے، بالکل قَوْلًا سَدِيدًا کی بات ہوتی ہے، اس میں کوئی فریب نہیں ہوتا اور وہ جسم جس کے دماغ کو بغیر قریب کے اطلاعیں پہنچ رہی ہیں وہ سب سے زیادہ صحت مند ہوتا ہے۔جہاں فریب آجائے وہاں مثلاً فالج ہو گیا ایک انسان کی Nerves کو اعصاب کو، فالج کی وجہ سے یہ طاقت ہی نہیں کہ پوری بات پہنچا سکے وہاں دماغ ہمیشہ غلطی کرتا ہے پوری بات نہیں پہنچتی۔تو یہ بھی وہ مضمون ہے جہاں انسان کی مجبوریاں اور کمزوریاں ہیں۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ کا