خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 65

خطبات طاہر جلد 15 65 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء کھانا شروع کر دے، ناممکن تھا، بڑا ہو یا چھوٹا ہو وقت سے پہلے اٹھتا تھا اور توفیق ملتی تھی تو تہجد کے علاوہ قرآن کریم کی تلاوت بھی پہلے کرتا تھا پھر آخر پر سحری کے لئے وقت نکالا جاتا تھا اور سحری کا وقت تہجد اور تلاوت کے وقت کے مقابل پر ہمیشہ بہت تھوڑا سا رہتا تھا۔بعض دفعہ جلدی جلدی کر کے ان کو کھانا پڑتا تھا کیونکہ اگر دیر میں آنکھ کھلی ہے تو کھانے کا حصہ نکالتے تھے تہجد کے لئے ، تہجد کا حصہ نکال کر کھانے کو نہیں دیا جاتا تھا۔پس یہی وہ اعلیٰ رواج ہے جسے اس زمانے میں بھی رائج کرنا چاہئے اور اس پر قائم رہنا چاہئے۔مسند احمد بن مقبل میں سے یہ حدیث ہے بحوالہ فتح الـربـانـی ، ابوسعید خدری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور جس نے رمضان کے تقاضوں کو پہچانا اور ان کو پورا کیا اور جو رمضان کے دوران ان تمام باتوں سے محفوظ رہا جن سے اس کو محفوظ رہنا چاہئے تھا یعنی جس نے ہر قسم کے گناہ سے اپنے آپ کو بچائے رکھا تو ایسے روزہ دار کے لئے اس کے روزے اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔پس وہ دیگر شرائط جو تہجد کی نماز یا عبادت ادا کرنے کے علاوہ لازم ہیں وہ یہ ہیں کہ تقاضوں کو پورا کیا جائے اور تقاضے پورے کرنے میں اہم بات یہ ہے کہ وہ ان تمام باتوں سے محفوظ رہے جن کے متعلق قرآن کریم میں یا احادیث میں ذکر ملتا ہے کہ خصوصیت سے رمضان کے مہینے میں ان سے پر ہیز کیا جائے اور ہر قسم کے گناہ سے اپنے آپ کو بچائے ایسا روزے دار اگر رمضان کے مہینے روزہ رکھتے ہوئے گزار دے تو اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔بخاری کتاب الصوم سے ایک اور حدیث لی گئی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔(صحیح بخاری کتاب الصوم باب هل يقال رمضان أو شهر رمضان ومن رأى كله واسعاً) اس ضمن میں ایک خطبے کا بڑا حصہ پہلے بھی اس حدیث کے لئے وقف کر چکا ہوں تا کہ عامۃ الناس کو جو اس حدیث کے الفاظ سے غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ رمضان کے مہینے میں دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں ہو گا جو دوزخی کام کرے اور ہر وہ شخص جس