خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 696 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 696

خطبات طاہر جلد 15 696 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء سے داخل ہو کر اب آگے بڑھ رہی ہے۔اس لئے جتنے بھی کام بڑھیں گے ایک ذرے کا بھی وہم نہ کریں کہ خلیفہ کی طاقت سے بڑھ جائیں گے۔جو مرکزی نظام خدا نے قائم کیا ہے وہی جاری رہے گا اور وہی سارے کام سنبھالے گا اور ساری ذمہ داریاں ادا کرے گا اور ساتھ ساتھ جو تائیدی نظام ہے سلطان نصیر بنتے چلے جاتے ہیں وہ اپنا اپنا کام کرتے چلے جائیں گے لیکن ہر دفعہ ریفرنس دماغ کو جاتا ہے اور یہ جور یفرنس جانے والی بات ہے یہ بڑی حیرت انگیز بات ہے۔سوتے ہوئے میں بھی جسم کے اعضاء میں جگہ جگہ جو تبدیلی واقع ہورہی ہے ان کا ریفرنس ایک دماغ کو ضرور جاتا ہے یعنی ایک حوالہ جاتا ہے کہ یہ یوں ہو رہا ہے اس کو ریکارڈ کر لو اور یہ یوں ہونا چاہئے کہ نہیں ہونا چاہئے تو اس لئے ریفرنسز جتنے بھی ہوں گے اگر نظام مرتب ہو تو اس کے نتیجے میں طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں پڑتا۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جس رفتار سے جماعت ترقی کر رہی ہے اس میں مزید دعاؤں کی ضرورت ہے اور یہ مضمون میں نے اس لئے کھول کر بیان کیا ہے باوجود اس کامل یقین کے که خدا تعالی خود توفیق دے گا اور بڑھائے گا دعا کا خانہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے اور اس سے فرق پڑتا ہے۔جتنی زیادہ دعائیں مددگار ہوں اتنا ہی انسان اللہ تعالیٰ کی تائید کو آسمان سے اتر تا دیکھتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ یہ دعائیں ہیں جو پھل لا رہی ہیں۔اس لئے جماعت دعاؤں سے غافل نہ ہو اور دعاؤں والا جو مضمون ہے اس میں فتنوں کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ایک انسان اگر لاعلمی میں کوئی فیصلے کرتا ہے تو ان فیصلوں میں اسی حد تک خامی پیدا ہوسکتی ہے اور دشمن ہمیشہ چھپ کر وار کرتا ہے اور جب تک اس کے وار کا طریقہ معلوم نہ ہو اس کی واردات کا اندازہ ،طریق معلوم نہ ہواس وقت تک انسان صحیح طرح اس کے خلاف اگر طاقت رکھتا بھی ہو تو دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔اچانک حملے کا جو فلسفہ ہے جنگوں میں استعمال ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ ایک چھوٹا دشمن بھی بڑے دشمن پر غالب آجاتا ہے اگر سر پرائز Surprise کا ایلیمنٹ (Element) آجائے ،اچانک پین اس میں آجائے۔تو دشمن چونکہ ہمیشہ سازش مخفی کرتا ہے اور قرآن کریم نے شیطان کے حوالے سے یہ بات ہم پر خوب کھول دی ہے کہ شیطان تمہیں وہاں سے دیکھ رہا ہے جہاں تم اسے دیکھ نہیں رہے وہاں سے وار کرتا ہے جہاں تمہیں پتا نہیں۔اس لئے خدا کی پناہ میں آنے کا مضمون ہمیشہ یاد رکھنا