خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 692
خطبات طاہر جلد 15 692 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء غیر معمولی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔وہ صرف افراد کی کثرت نہیں بلکہ قوموں کی بحیثیت قوموں کی شمولیت کی کثرت بھی ہے۔ربوہ کے جلسے میں بھی U۔K کے جلسے میں بھی اگر چہ ہر قوم کے لوگ آتے رہے، ہر ملک کے لوگ آتے رہے، آتے ہیں، انشاء اللہ آتے رہیں گے مگر باقاعدہ اس طرح جماعت کے طور پر کثرت سے دوسری قوموں کے لوگوں کا آنا یہ جرمنی کا ہی حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز جرمنی کو بخشا ہے۔چنانچہ اس سال جو ہجوم کی کثرت دیکھی تو امیر صاحب نے اس بارے میں مجھ سے ذکر کیا کہ اب اتنے مختلف زبانوں والے بیک وقت سنبھالنے مشکل ہورہے ہیں اور اس کا کیا حل ہوسکتا ہے۔اتفاق سے جو حل میرے ذہن میں آیا اسی حل کا وہ بھی سوچ رہے تھے کہ جرمنی کا جلسہ بیک وقت دو تین قوموں کا جلسہ ہورہا ہو اور ایک جلسہ اور ایک پنڈال نہ ہو بلکہ بوسنین مقررین بوسنین زبان میں اپنا جلسہ جاری رکھیں اور البانین مقررین البانین زبان میں اپنا جلسہ جاری رکھیں۔ان کے علماء ان سے اسی طرح گفتگو کر رہے ہوں جیسے ہمارے ہاں لجنہ کا جلسہ ،خواتین کا الگ ہو رہا ہوتا ہے اور مردوں کا الگ اور بعض تقریبات اکٹھی ہو جاتی ہیں۔تو اب جو قومی پھیلاؤ کے دن آئے ہیں جب فوج در فوج لوگ داخل ہو رہے ہیں تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا کہ ایک جلسہ اپنے بہت سے پہلو دائروں کی صورت میں رکھتا ہو اور ایک وسیع جلسہ ان سب دائروں پر محیط ہو اور اس میں بعض ایسی مصروفیات ہوں جن میں سب کو اکٹھا شریک ہونے کا موقع ملے۔مثلاً جو بھی خلیفہ ا مسیح ہو اس وقت اس کی تقریر اور بعض مرکزی علماء کی تقاریر یا بعض بیرونی وفود کی آمد پر ان کو جو موقع دیا جاتا ہے کچھ بات کرنے کا ایسی تقریبات ہیں جو سب میں مشترک ہو سکتی ہیں تاکہ جلسے کی واحدانیت بھی قائم رہے اور اس کے جو پھیلاؤ کے تقاضے ہیں وہ بھی پورے ہوں۔ورنہ مشکل یہ پیش آتی ہے کہ البانین لوگوں کے لئے صرف وہ خطاب ہی رکھا جائے جو میں ان کے ساتھ بیٹھ کر ان سے مجلس کرتا ہوں تو باقی وقت جلسے میں ان کا دل نہیں لگتا اور اکثر صبح آئے اور پھر رات کو واپس چلے گئے اور اس افراتفری کے عالم میں وہ اپنے آپ کو جلسے کا اس طرح جزو نہیں سمجھ سکتے جیسا ہر شامل ہونے والے کو سمجھنا چاہئے۔ایک حل اس کا ہم نے یہ کیا تھا کہ البانین اور بوسنین مہمان جو ہزارہا کی تعداد میں آتے ہیں ان