خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 677 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 677

خطبات طاہر جلد 15 677 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء تکلیف میں مبتلا ہے اس کو کھانا کھلا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بے قراری سے باہر آگئے رات کو اٹھ کے اعلان کروایا کہ گلیوں میں اعلان کر دو کون ہے جو بھوکا ہے اسے کھانا کھلایا جائے اور راتوں کو اٹھا اٹھا کر ان لوگوں کو کھانا پیش کیا گیا۔مطر تو مہمان نوازی کی جو میں تعریف کر رہا ہوں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جماعت احمدیہ کے ساتھ اس کا بہت گہرا تعلق ہے اور ہمارے مستقبل سے اس کا بہت گہرا تعلق ہے۔مہمان نوازی کے ذریعے ہی ہم نے لوگوں کے دل جیتے ہیں اور ہر جلسے پر، ہر اجتماع پر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمد یہ پہلے سے بہتر مہمان نواز بنتی چلی جارہی ہے۔یہ جو دوسرا پہلو ہے اور یہ بھی زیادہ شکر کے لائق ہے۔ورنہ لوگ مہمان نوازیاں کرتے تو ہیں چند دنوں کے بعد ، چند مہینوں کے بعد، چند سالوں کے بعد تھک جاتے ہیں۔مگر آج خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سوسال سے زائد عرصہ گزرگیا لیکن جماعت نہ تھکی ، نہ ماندہ ہوئی بلکہ ہر سال پہلے سے بڑھ کر اس میں مہمان نوازی کے اخلاق سنورتے رہے اور زیادہ روشن اور صیقل ہوتے رہے۔پس اس اعلیٰ خلق کی حفاظت کریں۔ساری دنیا میں چونکہ یہ جمعہ نشر ہو رہا ہے اس لئے آپ کی جماعت جرمنی کے حوالے سے میں ان سب کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ (البقرة: 149) تمہارے لئے خدا تعالیٰ نے ایک سمح نظر بنا دیا ہے لِكُلّ وِجْهَةٌ هُوَمُوَ لَيْهَا ہر ایک کے لئے ایک صبح ہے، ایک دوڑ کا نشانہ ہے۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ پر تمہارے لئے دوڑ کا نشانہ یہ مقرر کیا گیا ہے کہ تمام خوبیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔پس امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو اس پہلو سے بھی اپنی ذمہ داریوں کو صرف ذمہ داریاں سمجھ کر ادا کرنے کی توفیق نہیں بخشے گا بلکہ محبت کے ساتھ ان فرائض کو ادا کرنے کی توفیق بخشے گا۔دل ڈال کر، اپنی روح ڈال کر یہ خدمتوں کی توفیق بخشے گا کیونکہ اگر یہ خدمتیں دل اور روح کے ساتھ کی جائیں تو پھر بوجھ نہیں بنتیں ، پھر لطف بن جاتی ہیں۔تو جو کام لمبے ہوں جو لیکھے لمبے ہوں ان میں ایسی محنت جو بوجھ بن جائے وہ زیادہ دیر تک چل نہیں سکتی۔پس ہماری بقاء کا راز اس میں ہے، ہمیشہ کے لئے اپنی نیکیوں کو قائم رکھنے کا راز یہ ہے کہ نیکیوں سے محبت کریں اور محبت کے ساتھ ان باتوں کو سر انجام دیں اس کے نتیجے میں کوئی بوجھ ، بوجھ نہیں رہے گا بلکہ زندگی کا ایک لطف بن جائے گا اور یہی بڑی وجہ ہے کہ جس کی وجہ سے جماعت مطمن