خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 676
خطبات طاہر جلد 15 676 خطبہ جمعہ 30 اگست 1996ء کے حوالے سے میں نے آپ کو بتایا ایسی خوبی نہیں ہے جو نظر انداز کی جاتی ہے۔ یہ مشہود خوبی ہے۔ اس پر نظر پڑتی ہے آسمان سے ، مگر اس کی وجہ للہ ہونی چاہئے ۔ ورنہ بے شمار مہمان نوازیاں ہیں جو رشتوں کی خاطر ، ذاتی محبتوں کی خاطر کی جاتی ہیں، مجبوراً کی جاتی ہیں ، دکھاوے کے لئے کی جاتی ہیں ، ان کی کوئی قدر آسمان پر نہیں ہوتی ۔ مگر جو اللہ کی خاطر کرتا ہے یہ مہمان نوازی زمینی نہیں رہتی بلکہ آسمانی بن جاتی ہے۔ پس یہی بیان مقصود تھا جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی بھی پیار کی نظریں اس پر پڑ رہی تھیں ۔ تو اس حسن خلق کو بڑھا ئیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو پانچ بنیادی شاخوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ اور یہ حیرت انگیز بات ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کے کارخانے کا ذکر فرماتے ہوئے کہ جو الہی کارخانہ قائم فرمایا گیا ہے اس کی پانچ مستقل شاخیں ہیں ان میں ایک مہمان نوازی کو قرار دیا ہے اور یہ ایک پیش گوئی کا رنگ بھی رکھتا تھا کیونکہ جماعت احمدیہ کے پھیلنے اور نشو و نما کا جماعت احمدیہ کے خلق مہمان نوازی سے ایک گہرا تعلق ہے۔ پھر تمام دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کرنے کا جماعت احمد یہ کے خلق مہمان نوازی سے بہت گہرا تعلق ہے۔ سب دنیا میں جہاں جلسے منائے جاتے ہیں وہاں بسا اوقات خصوصاً ان دنوں جبکہ کثرت سے نئے مہمان تشریف لا رہے ہیں مہمان نوازی کے تقاضے اونچے ہو جاتے ہیں اور ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس زمانے میں جبکہ گنتی کے چند افراد کی آمد آمد تھی ساری جماعت کو ایک عظیم ذمہ داری کے لئے تیار کرنے کی ہدایت فرمائی اور ہدایت کی کہ آنے والے مہمانوں کا خیال رکھنا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو خود اتنا خیال تھا کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ ایک وقت قادیان میں ایک دفعہ جلسے کے دنوں میں چند مہمان بھوکے رہ گئے اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے بچوں کی وہ بھی یہی کہا کرتے تھے کہ ان کے بچوں نے مجھے بڑی تفصیل سے وہ دلائل پیش کئے جس سے پتا چلتا ہے کہ اول طور پر ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب گویا مقصود تھے مگر اول طور پر تھے یا ضمناً تھے یہ بحث بے تعلق ہے۔ امر واقعہ یہ ہے وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے اور اس کی انہوں نے گواہی دی تو وہ مہمان جو چند مہمان تھے جو بغیر کھانے کے سورہے تھے یا سونے لگے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو الہا ما فرمایا الطعموا الجائع والمعتر کہ جو بھوکا ہے اور