خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 667
خطبات طاہر جلد 15 667 طبہ جمعہ 23 را اگست 1996ء تر و تاز گی تو حاصل نہیں کر سکے گی۔ پس ذاتی خلوص کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں بیعت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ وو ۔۔۔ جس قدر یہ نسبت ہو گی اسی قدر فائدہ ہوگا۔۔۔ ( ملفوظات جلد اول صفحه : 2 تا 3) اب دیکھیں یہ مضمون کتنا وسیع ہو گیا ہے اور کتنی اس میں عظمت آگئی ہے۔ ایک چھوٹی سی بات جو عام انسان کے لئے مسئلہ بنی رہتی ہے اور بعض دفعہ عمر بھر کی دانشوری بھی اس بات کا حل نہیں دے سکتی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بات کو دیکھیں کیسی وضاحت کے ساتھ کھول دیا ہے روز روشن کی طرح روشن کر دیا ہے بیعت کے الفاظ وہی ہیں جو قرآن نے بیان فرمائے ، عہد بیعت کا مضمون وہی ہے جو قرآن نے بیان فرمایا لیکن کس کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہو یہ مضمون ہے جو بیعت کے الفاظ میں ایک نئی زندگی اور ایک نئی عظمت پیدا کر دیتا ہے۔ صلى الله حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ہاتھ پر جو بیعت کی گئی پھر ویسی بیعت کبھی نہیں ہوئی ہاں الله اس دور میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تو چونکہ آپ نے اپنی ذات کو کامل طور پر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں کھو دیا تھا اور اپنا کچھ بھی باقی نہیں رکھا تھا اس لئے آپ کی بیعت اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت قرار دی جاسکتی ہے تو یہی وہ بیعت ہے جس کو اس دور میں پھر دہرایا گیا ہے مگر ذاتی طور پر نہیں آنحضرت ﷺ کے عشق کامل کے لحاظ سے اپنے سارے وجود کو کھو دینے کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ فیض عطا کیا گیا۔ آگے جتنی بھی بیعتیں ہیں ، ہوئی ہیں یا ہوں گی ان میں عہد بیعت وہی رہے گا مگر درجہ بدرجہ اس کا تعلق اس کی ذات سے ضرور رہے گا جس نے بیعت لی ہے۔ اگر خدا کے حضور اس کا ایک خلوص اور تقویٰ کا مقام مسلم ہے تو ہر بیعت کرنے والے کے اندر اسی قدر خلوص اور تقویٰ سرایت کرے گا اور بیعت کرنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حال کو درست کرتا رہے اور درست رکھے جہاں تک اس کا بس چلے جہاں تک زور لگ سکتا ہے دعاؤں کے ذریعے اور مسلسل کوشش کے ذریعے اپنا حال بہتر بنا تا رہے کیونکہ اس کے ساتھ بہت سی زندگیوں کا انحصار ہے۔ بہت سے اور وجود ہیں جنہوں نے اس سے مل کر زندہ ہونا ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی سے ہی غافل ہو گیا تو دوسروں کی زندگی کے کیا سامان