خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 664
خطبات طاہر جلد 15 664 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء میں نصیب ہو جائے تو یقیناً اور بلاشبہ اس دنیا ہی میں جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ حدیث اس مضمون کا ذکر فرما رہی ہے۔اعمل ماشئت فقد غفرت لک کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندے میں تجھے بخش چکا ہوں اب تو جو چاہے کرے تو ہمیشہ میری رضا کی باتیں کرے گا ، میرے پیارے کو جیتنے والی باتیں کرے گا اور گناہ کی طرف تیرا میلان اختیار کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کثرت گناہ کی وجہ سے دعا میں کوتا ہی نہ ہو۔فرماتے ہیں بعض دفعہ انسان اس خیال سے کہ میرے گناہ بہت بڑھ گئے ہیں دعا میں بھی کوتاہی کرتا ہے۔سمجھتا ہے کہ اب کہاں بخشا جاؤں گا۔اب تو معاملہ حد اختیار سے آگے نکل ہو چکا ہے۔اتنے گناہوں کو اب کون بخشے گا تو فرمایا یہ بھی جرم ہے۔کثرت گناہ کی وجہ سے دعا میں کو تاہی نہ ہو،۔۔۔گناہ کرنے والا اپنے گناہوں کی کثرت وغیرہ کا خیال کر کے وو دعا سے ہرگز باز نہ رہے۔دعا تریاق ہے۔آخر دعاؤں سے دیکھ لے گا کہ گناہ 66 اسے کیسا برا لگنے لگا۔۔“ پس گناہ سے بچنے کا طریق بھی دعائیں ہی ہیں جوفضل الہی کوکھینچتی ہیں اور بخشش کا مضمون صرف خدا سے تعلق رکھتا ہے۔پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ گناہ چھوڑ دیں اور گناہوں کی دنیا سے ہجرت کر کے روحانی دنیا کی طرف چلے جائیں ان کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ پیغام ہے کہ تمہارے گناہ کتنے بھی بڑھ چکے ہوں ایک ہی راہ ہے تمہاری ہجرت کی کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو وہ تمہیں بدی کی دنیا سے نیکی کی دنیا کی طرف ہجرت کی توفیق عطا فرمائے۔فرماتے ہیں: "۔۔۔جو لوگ معاصی میں ڈوب کر ( یعنی گناہوں میں غرق ہونے کے بعد ) دعا کی قبولیت سے مایوس رہتے ہیں اور تو بہ کی طرف رجوع نہیں کرتے ، آخر وہ انبیاء اور ان کی تاثیرات کے منکر ہو جاتے ہیں۔۔۔“ فرماتے ہیں یہ جو مایوسی ہے ایک بہت بڑا گناہ ہے جو دراصل انسان سے اس کا سارا دین چھین لیتا ہے۔وہ لوگ جو گناہوں میں پڑ کر سمجھتے ہیں کہ اب تو ہم ڈوب گئے اور اب تو دعا بھی ہمیں نہیں بچا سکتی بالآخر وہ انبیاء کے بھی منکر ہو جاتے ہیں اور ایمان کے ہر پہلو سے وہ منہ پھیر کر کفر کی بچاسکتی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔