خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 663

خطبات طاہر جلد 15 663 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء بعض دفعہ ایک فقرے کا ایک حصہ ہی بلاشبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کو روز روشن کی طرح ثابت کرنے کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔اب یہ مضمون جو ہے وہ کسی گنہگار کے دل پر نہیں اتر سکتا۔ناممکن ہے ایک ایسا شخص جو خدا سے دور ہو وہ آنحضور ﷺ کے اس ارشاد کے یہ معنی پالے۔کوئی بہت ہی جاہل اور فطرتی طور پر پیدائشی اندھا ہوگا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کلام کو پڑھ کر یہ نتیجہ نکالے کہ اتنا عارفانہ مضمون ایک خدا اور نبی سے دور انسان کے دل پر روشن ہو گیا۔فرماتے ہیں: وو۔۔۔اب گناہ اسے بالطبع بُرا معلوم ہوگا جیسے بھیڑ کو میلا کھاتے دیکھ کر کوئی دوسرا حرص نہیں کرتا کہ وہ بھی کھاوے۔۔66 فرمایا بھیٹر جب گندگی پر منہ مارتی ہے تو وہ شخص جس کے دل کو خدا تعالی نے پاک کیا ہو یعنی انسانی صفات حسنہ اس کو عطا کی گئی ہوں کیا تم سوچ سکتے ہو کہ بھیڑ گند پر منہ مارے اور کسی انسان کا سخت دل چاہے کہ میں بھی کھاؤں اسی طرح جو گند بھیڑ کھا رہی ہے میں بھی اسی پر منہ ماروں۔۔۔۔مسلمانوں کو خنزیر کے گوشت سے بالطبع کراہت ہے حالانکہ وو اور دوسرے ہزاروں کام کرتے ہیں جو حرام اور منع ہیں تو اس میں حکمت یہی ہے کہ ایک نمونہ کراہت کا رکھ دیا ہے اور سمجھا دیا ہے کہ اسی طرح انسان کو گناہ سے نفرت ہو جاوے۔۔۔پس وہ شخص جسے خدا فرماتا ہے کہ میں نے تجھے بخش دیا اب جو چاہے کرتا پھر، مراد یہ ہے کہ اب مجھے تجھ پر کامل یقین ہے اب میں تیری ڈور ڈھیلی چھوڑتا ہوں ، میں جانتا ہوں کہ جسے میں نے بخش دیا ہو وہ کبھی گناہ کی طرف کسی غفلت کی نظر سے بھی نہیں دیکھے گا، معمولی نگاہ سے بھی گناہ کو چاہت اور پیار سے نہیں دیکھے گا بلکہ جب دیکھے گا نفرت سے دیکھے گا ، جب دیکھے گا کراہت کے ساتھ دیکھے گا۔پس وہ کھلی چھٹی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں پر جو بخش دئے گئے ہوں کامل اعتماد کا اظہار کیا جاتا ہے اور مرتے دم تک وہ اس اعتماد کو ٹھیس نہیں لگاتے اور یہی بقاء کا مضمون ہے۔اس دنیا میں رہتے ہوئے وہ عالم بقاء میں چلے جاتے ہیں۔اس دنیا میں رہتے ہوئے وہ جنت کی زندگی پالیتے ہیں۔جس طرح جنت میں گناہ کا کوئی تصور نہیں جب یہ کیفیت انسان کو اس دنیا