خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 657 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 657

خطبات طاہر جلد 15 657 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء والے کو صرف آخرت کا وعدہ نہیں کرتا اس دنیا میں بھی وعدہ پورا فرما دیتا ہے اور سچی توبہ کی قبولیت کی نشانی یہ ہے کہ اس دنیا میں جن جن لذتوں سے اس نے روگردانی کی ہوتی ہے جن چیزوں کو خدا کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اس سے بہتر لذتیں اس دنیا میں اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرماتا ہے اس سے بہتر تسکین کی چیزیں اس دنیا میں اس کو عطا کرتا ہے اور یہ روحانی لذتیں جو جزا کے طور پر آتی ہیں یہ دائمی ہوتی ہیں۔یہی وہ جنت ہے جس کو وہ سمیٹ کر اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور اگلی دنیا میں اس سے بڑھ چڑھ کر اسی جنت کو پاتا ہے۔پس فرماتے ہیں:۔۔۔وہ جب تک اس کل کا نعم البدل عطا نہ فرما دے نہیں مارتا، اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ (البقره: 223) میں یہی اشارہ ہے (اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ یقینا اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ) یہی اشارہ ہے کہ وہ تو بہ کر کے غریب بے کس ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس سے محبت اور پیار کرتا ہے اور اسے نیکیوں کی جماعت میں داخل کرتا ہے۔دوسری قومیں خدا کو رحیم کریم خیال نہیں کرتیں ( یعنی یہ جو مضمون ہے خدا رحیم و کریم ہے یہ حقیقی طور پر مسلمانوں پر ہی روشن ہوا) عیسائیوں نے خدا کو تو ظالم جانا اور بیٹے کو رحیم کہ باپ تو گناہ نہ بخشے اور بیٹا جان دے کر بخشوائے۔۔۔“ وو 66 فرماتے ہیں عیسائیوں کے مذہب میں بھی ایک رحیم و کریم کا تصور ہے مگر خدا کو رحیم نہیں جانتے بیٹے کو رحیم جانتے ہیں۔باپ تو بغیر سزا دیئے بخشے نہ اور بیٹا اپنی جان دے کر بخشوائے۔فرمایا دیکھو کون زیادہ رحیم و کریم ہوا؟ باپ کہ بیٹا ؟۔والد مولود میں مناسبت اخلاق عادات کی ہوا کرتی ہے۔فرماتے ہیں:۔۔۔بڑی بے قوفی ہے کہ باپ بیٹے میں اتنا فرق ہو والد مولود میں مناسبت اخلاق ، عادات کی ہوا کرتی ہے مگر یہاں تو بالکل ندارد۔اگر اللہ رحیم نہ ہوتا تو انسان کا ایک دم گزراہ نہ ہوتا۔جس نے انسان کے عمل سے پیشتر ہزاروں اشیاء اس کے لئے مفید بنا ئیں تو کیا یہ گمان ہوسکتا ہے کہ تو بہ اور عمل کو قبول نہ کرے۔۔۔“ پھر فرماتے ہیں تو بہ کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے گناہ کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔فرماتے ہیں: