خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 658 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 658

خطبات طاہر جلد 15 658 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء ”۔۔۔گناہ کی یہ حقیقت نہیں ہے کہ اللہ گناہ کو پیدا کرے اور پھر ہزاروں برس کے بعد گناہ کی معافی سوجھے جیسے مکھی کے دو پر ہیں ایک میں شفا اور دوسرے میں زہر۔۔۔“ فرمایا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس قسم کا جاہلانہ تصور نہ باندھو کہ گویا خدا تعالیٰ نے گناہ پیدا کر کے تمہیں پہلے ملوث کر دیا اور پھر ہزاروں سال کے بعد خیال آیا او ہو یہ تو غلطی ہوگئی چلو اب ان کی معافی کا بھی کوئی سامان کیا جائے۔فرمایا یہ تو مکھی کے پروں کا کھیل ہو گیا۔کہا جاتا ہے کہ مکھی کے دائیں پر میں شفا ہے اور بائیں پر میں بیماری ہے۔جب وہ دودھ پر بیٹھتی ہے تو بایاں پر یعنی بیماری کا پر جھکا دیتی ہے اور دودھ گندا ہو جاتا ہے۔اگر اسے ڈبو دیں اور دایاں پر بھی ڈوب جائے تو اسی پر میں اس بیماری والے پر کے خلاف شفا کی طاقت ہوتی ہے اور وہ اس کا دایاں پر اس کی شفا کا موجب بن جاتا ہے۔فرماتے ہیں کہ اپنے خدا کو وہ لکھی تو نہ سمجھو جس کے دو پر ہیں ایک پر میں بیماری یعنی گناہ اور دوسرے میں شفا، پہلے وہ عادتا گویا اپنا دایاں پر ہی دودھ میں ڈالے گا تو تمہاری زندگی کو بائیں پر کے جھکنے سے گندا کر دے گا اور جب تم گناہ میں ملوث ہو جاؤ گے تو پھر اگر اس مکھی کو خیال آ گیا تو آگیا ور نہ کوئی اور اسے غوطہ دے دے تو اس کا بایاں پر بھی اندر ڈوب جائے گا۔فرمایا یہ تو جاہلانہ تصور ہے اس کو خدا کی طرف منسوب نہ کرو۔فرماتے ہیں: وو۔۔۔اسی طرح انسان کے دو پر ہیں ایک معاصی کا دوسرا خجالت، تو بہ، پریشانی کا۔یہ ایک قاعدہ کی بات ہے جیسے ایک شخص جب غلام کو سخت مارتا ہے تو پھر اس کے بعد پچھتاتا ہے گویا کہ دونوں پر اکٹھے حرکت کرتے ہیں۔۔۔“ یہ جو مضمون ہے اس کا پہلے مضمون سے تعلق ہے مگر اب انسان کے حوالے سے پیش کیا جارہا ہے۔فرماتے ہیں اللہ تعلی کو تو نعوذباللہ من ذالک لکھی کی طرح سمجھنا اس کی گستاخی ہے لیکن انسان میں اس کی فطرت میں یہ بات ضرور داخل ہے کہ اس میں یہ دونوں رجحانات پائے جاتے ہیں وہ غلطی بھی کرتا ہے اور بائیں پر کو پہلے جھکاتا ہے اور پھر معا تو بہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور دائیں پر کو جھکاتا ہے۔پس یہ جو تمثیل ہے یہ خدا پر نہیں ، بندوں پر عائد ہوتی ہے اور اگر بندوں میں یہ صفت موجود ہے کہ گناہ کر کے غلطی کر کے پشیمان ہوتے ہیں اور پھر خود اپنی غلطیوں کے ازالے کی کوشش