خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 656
خطبات طاہر جلد 15 656۔۔۔یعنی اس سابقہ وطن میں کبھی نہیں آتا۔۔۔“ خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء فرمایا یہ وہ مضمون ہے۔پھر جب اس کو چھوڑتا ہے تو اس سابقہ وطن میں پھر کبھی نہیں آتا۔یہ جو دوسرا پہلو ہے یہ صرف روحانی پہلو ہے۔دنیا کے وطن میں تو یہ امید لگی رہتی ہے کہ ہم کبھی کسی دن ملکی قوانین اجازت دیں گے یا اقتصادی حالات اجازت دیں گے تو پھر اپنے وطن میں جائیں گے ، ان گلیوں میں گھوم پھر کر دیکھیں گے، ان گھروں میں جائیں گے جہاں ہم رہا کرتے تھے لیکن روحانی ہجرت کا اور اس میں ایک فرق ہے۔روحانی ہجرت اور دنیاوی ہجرت کا فرق زندگی اور موت کا فرق ہے۔موت کے وقت جو ہجرت ہوتی ہے اس سے واپسی نہیں ہوا کرتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ سمجھا رہے ہیں کہ جب تم روحانی ہجرت کرتے ہو تو وہ موت ہی کی طرح ہے اور اس ہجرت میں پھر کبھی واپسی ممکن نہیں ہے۔یہ ہجرت کرو گے تو تمہاری تو بہ تو بہ بھی جائے گی۔یہ ہجرت کرو گے تو توبہ قبول ہوگی جس کی قبولیت پر تمہاری آئندہ زندگی کا دارو مدار ہے۔فرماتے ہیں:۔۔جو تو بہ کرتا ہے اسے بڑا حرج اٹھانا پڑتا ہے اور کچی تو بہ کے وو وقت بڑے بڑے حرج اس کے سامنے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ رحیم وکریم ہے وہ جب تک اس کل کا نعم البدل عطا نہ فرمادے نہیں مارتا۔۔۔“ کتنا عظیم الشان کلام ہے، کتنا گہرا عارفانہ کلام ہے۔فرماتے ہیں تم نے خدا کی خاطر سب کچھ چھوڑ دیا لیکن یا درکھو ہجرت کے ساتھ ایک وسعت کا بھی وعدہ ہے اور وہ وسعت ہم نے دنیا کی ہجرتوں میں دیکھی ہے۔ہم جانتے ہیں ، آپ سب جانتے ہیں کہ جب خدا کی خاطر کچھ چھوڑ کر وطن سے نکلے تو اللہ نے اس سے بہت بہتر اس سے زیادہ دیا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں وہ تو بہ جس کا میں ذکر کر رہا ہوں، (یعنی) مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، جو اس زندگی میں تم کرتے ہو اور اپنے گناہوں کے وطن کو چھوڑ کر خدا کی طرف ہجرت کرتے ہو یہ بچی تو بہ تب ہوگی جب دوبارہ پھر اس پر انے وطن کی طرف جانے کا خیال دل سے نکال دو گے جسے چھوڑ کر خدا کی خاطر تم ایک نئی روحانی دنیا میں آئے ہو تو خدا تمہیں نہیں مارے گا جب تک ہر تکلیف کی جزا نہ دے دے گا۔جو کچھ تم نے چھوڑا ہے جب تک اس سے بہتر تمہیں عطا نہ کر دے گا تم پر موت وارد نہیں ہوگی۔یہ ایک حیرت انگیز مضمون ہے جو اس سے پہلے آپ نے کبھی کہیں نہیں سنا ہوگا کہ خدا تعالیٰ کچی تو بہ کرنے