خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 652
خطبات طاہر جلد 15 652 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء ایک ایسی تشریح فرمائی ہے کہ اس کی کوئی نظیر کہیں آپ کو اسلامی لٹریچر میں نہیں ملے گی مگر یہ تمام تشریح قرآن اور حدیث پر مبنی ہے اس سے باہر نہیں۔پس آج جماعت جرمنی ہی کے حالات کے پیش نظر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اقتباس کو چنا ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا یہ نصیحت اس آیت کریمہ پرمبنی اور ان احادیث کے مضامین پر مبنی ہے جن کا تعلق ہجرت سے ہے۔آنحضرت ﷺ نے ہجرت کا جو مضمون بیان فرمایا ہے اس پر میں تفصیلی روشنی پہلے ڈال چکا ہوں اور وہ حدیث جس کا ہجرت سے تعلق ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر شخص جب ہجرت کرتا ہے تو اس کی ہجرت بدنی ہوتی ہے اور ایک نیت اور روح کی ہجرت ہوتی ہے۔جو بدنی ہجرت ہے وہ خواہ کوئی بھی رخ اختیار کرے اللہ کے ہاں وہی ہجرت مقبول ہوتی ہے اور وہی ہجرت کا رخ معین ہوتا ہے جو نیت کا رخ ہو جس طرف نیت نے ہجرت کی ہو۔اس تعلق میں آنحضرت ﷺ نے اور بھی نصائح فرمائیں۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اور یہ مسلم کتاب البر والصلة سے حدیث لی گئی ہے۔حضرت ابوھریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو نہیں دیکھتا اور نہ تمہاری صورتوں کو کہ خوب صورت ہو یا بد ہو بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے کہ ان میں کتنا خلوص اور حسن نیت ہے۔(مسلم کتاب البر والصلة والأدب باب تحريم ظلم المسلم و خذله و احتقاره ودمه و عرضه و ماله ) پس ہر وہ عمل جو مومن سے صادر ہوتا ہے اس کا مرکزی نقطہ اس کا دل اور اس کی نیت ہے اور اللہ تعالیٰ بدنوں اور جسمانی حسن یا بد زیبی سے قطع نظر دل کے اس حسن پر نظر ڈالتا ہے جس کا نیت ے تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر جو نصیحت فرمائی ہے وہ میں اب آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔میرے تمام خطبے کا مضمون اور اس افتتاحی خطاب کا جو جرمنی کے اس سالانہ اجتماع کے موقع پر دے رہا ہوں اور یہاں خطبہ اور افتتاح دونوں اکٹھے ہو گئے ہیں اسی اقتباس سے ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔میرے ذہن میں پہلے بھی اسی قسم کا مضمون تھا لیکن جب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ اقتباس سامنے نہ آیا اس کے تمام پہلو ذہن پر روشن نہیں ہو سکے تھے۔اب جب اقتباس کا جو میں آپ کے سامنے رکھوں گا گہری نظر سے مطالعہ کیا تو میں حیران و ششدر رہ گیا کہ ہجرت اور توبہ کے