خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 649
خطبات طاہر جلد 15 649 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء ہوں۔حضرت مسیح موعود اسی مضمون کے ایک اور پہلو کو ہمارے سامنے کھولتے ہیں کہ بایاں ہاتھ اور دایاں ہاتھ جب ضرورت ہوگی از خود تعاون کرتے ہیں۔یہ ہو نہیں سکتا کہ بایاں ہاتھ کوئی کام میں مشغول ہواس کو ضرورت ہو اور دایاں ہاتھ بے اختیار اس کی مدد کو نہ لیکے۔یا دائیں ہاتھ میں کمزوری واقع ہو اور بایاں ہاتھ بے اختیار اس کی مدد کو نہ لیکے۔بعض مریض میں نے دیکھے ہیں جن کا بدن کا ایک حصہ فالج میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ بایاں ہاتھ اگر مفلوج ہے تو دایاں ہاتھ ہر وقت اس ہاتھ کو اٹھائے پھرتا ہے یعنی اپنے بھائی کی خدمت پر مامور رہتا ہے۔یہ وہ تعاون کی روح ہے جو اندرونی طور پر مضبوط ہوتو بیرونی طور پر بھی اپنے جلوے دکھائے گی۔پھر تبلیغ میں صرف زبانی نصیحت اور ہمدردی نہیں رہے گی۔اگر ہمدردی کی وجہ سے تبلیغ ہے جو تبلیغ کا اصل ہے تو جب ایسا شخص ضرورت محسوس کرے گا ، جب تنگی میں ہوگا ، جب بیمار ہوگا ، جب پریشان ہوگا تو آپ لازماً از خود اس کی ظاہری عملی مدد پر آمادہ ہو جایا کریں گے اور یہ بات جب پیدا ہو جائے داعی الی اللہ میں تو اس کی آواز میں ایک غیر معمولی طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور خدمت خلق کرنے والوں کی دعوت الی اللہ بہت زیادہ پھول اور پھل لاتی ہے بہ نسبت ان کے جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم تمہاری مدد میں یہ کام کر رہے ہیں مگر ضرورت کے وقت اس کی ہمدردی ان کے دل سے، ان کے اعضاء سے ظاہر نہیں ہوتی۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ ان مضامین کے ان باریک پہلوؤں پر نظر رکھتے ہوئے جماعت احمد یہ اپنی دعوت الی اللہ کے مضمون کو تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى کے تابع رکھتے ہوئے اس میدان میں آئندہ مزید بلند منازل کی طرف قدم بڑھانے پر مستعد ہو جائے گی۔یہ جو خدا تعالیٰ نے اب تک ہم سے فیض کا سلوک فرمایا ہے کہ ہر سال ہم دگنے ہور ہے ہیں، اب منزل ایسی آگئی ہے یہ یقین نہیں آتا کہ اب کیسے دگنے ہو جائیں گے لیکن یہ یقین کا نہ ہونا بھی ایک اندرونی بے ایمانی پر دلالت کرتا ہے، بے ایمانی اس طرح نہیں کہ جیسے خوفناک بے ایمانی ہوتی ہے۔مطلب ہے ایمان میں کچھ کمزوری۔گویا ہم اپنی طاقت سے بڑھے تھے اور ہماری طاقت اپنی آخری منزل کو پہنچ گئی ہے۔ہم تو اپنی طاقت سے بڑھے ہی نہیں۔ہمارے خلوص کو خدا نے قبول فرمالیا اور ہمارے بدن کو خود تھام لیا ہے۔اسی نے یہ پھل پیدا کیا ہے ہم نے اپنی طاقت سے نہیں کیا ، نہ کر سکتے تھے ، نہ پہلے کبھی کیا۔اس لئے آئندہ بھی اگر اسی نے کرنا ہے تو اپنی امیدوں کا سر بلند رکھیں۔اپنی اطاعت کا سر ہمیشہ