خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 646
خطبات طاہر جلد 15 646 ہوئے تعاون کی بعض لطیف مثالیں ہمارے سامنے رکھی ہیں۔آپ فرماتے ہیں: خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء۔۔۔یہ دستور ہونا چاہئے کہ کمزور بھائیوں کی مدد کی جاوے اور ان کو طاقت دی جاوے یہ کس قدر نا مناسب بات ہے کہ دو بھائی ہیں ایک تیرنا جانتا ہے دوسرا نہیں۔تو کیا پہلے کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ دوسرے کو ڈوبنے سے بچاوے یا اس کو ڈوبنے دے۔اس کا فرض ہے کہ اس کو غرق ہونے سے بچائے۔اسی لئے قرآن شریف میں آیا ہے کہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى ) کہ نیکی اور تقویٰ کے معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کرو) کمزور بھائیوں کا بار اٹھاؤ عملی ، ایمانی اور مالی کمزوریوں میں بھی شریک ہو جاؤ۔بدنی کمزوریوں کا بھی علاج کرو۔کوئی جماعت، جماعت نہیں ہوسکتی جب تک کمزوروں کو طاقت والے سہارا نہیں دیتے۔۔۔“ تو جو دل کے غریب ہیں ان کو مالی قربانی میں آگے بڑھانا، ان کو سہارا دینا ہے۔جو تبلیغ میں کمزوری دکھاتے ہیں ان کو قدم قدم ساتھ چلاتے ہوئے ان کی رفتار بڑھانا اور ان کو طاقت دینا یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تشریح کے عین مطابق تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِ کی مثال ہے۔پھر آپ اس مضمون کا دوسرا پہلو بیان کرتے ہیں۔جو نہیں ہونا چاہئے۔وو۔۔۔دیکھو وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے 66 کو کھائے۔۔۔“ اگر مالی معاملات میں جماعت میں حرص پیدا ہو جائے بعض لوگوں میں اور وہ اپنے دوسرے بھائیوں کو کھانے لگیں تو تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوی کا مضمون غائب ہو جائے گا اور نفرتیں پھیل جائیں گی ، اعتماد اٹھ جائیں گے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کے تابع اس کے باریک پہلو بیان فرمائے ہیں جو جماعت کو سمجھنے چاہئیں کیونکہ جب تک ایک جماعت نہ بن جائے اس وقت تک تبلیغ کے میدان میں غیر معمولی کامیابیاں نصیب نہیں ہوسکتیں۔فرماتے ہیں:۔۔۔جب چار مل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں