خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 645
خطبات طاہر جلد 15 645 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء ان کو فعال داعی الی اللہ بنانا اور پھر ان کو جو چندہ، یعنی ان کی بیعتیں ان کا چندہ ہے، اس کا حساب رکھنا یہ نظام جماعت کا کام ہے۔اس پہلو سے بار بار سمجھانے کے باوجود ابھی مزید سمجھانے کی ضرورت ہے۔میں نے چندے کے نظام کے متعلق یہ جماعتوں کو نصیحت کی کہ جو دے رہے ہیں ہر دفعہ انہی پر نہ توجہ دئے جائیں۔جب تحریک ہو آپ انہی کے پاس پہنچتے ہیں جو پہلے دے رہے ہیں۔جو نہیں دے رہے ان کا بھی تو کھانہ بنائیں، کوئی رجسٹر تیار کریں کہ جو نہ دینے والوں کا رجسٹر ہو اور پھر دیکھیں کہ وہ کتنے ہیں ان کا تناسب کیا ہے اور ان میں سے آپ نے کتنوں کو نا دہندہ رجسٹر سے دہندہ کے رجسٹر میں منتقل کیا ہے۔جب عملاً بعض جماعتوں نے بڑے اخلاص کے ساتھ اور سنجیدگی کے ساتھ اس پر عمل کیا تو ان کے مالی نظام میں حیرت انگیز برکت پڑی ہے اور اس پہلو سے امریکہ کی جماعت کی مثال بھی خدا کے فضل سے بڑی نمایاں ہے۔انہوں نے جب بھی میں نے ہدایت دی اسی طرح سنجیدگی کے ساتھ لفظاً لفظا عمل کی کوشش کی اور دیکھتے دیکھتے ان کا مالی نظام کہیں سے کہیں پہنچ گیا ہے۔اب میں ان کو یہ بھی۔سمجھا رہا ہوں کہ دعوت الی اللہ کا پروگرام بھی تو اسی طرح ایک اہم پروگرام ہے یعنی دونوں ایک دوسرے کے لئے دست و بازو ہیں اور دو بازوؤں کا جس طرح آپس میں تعلق بھی ہوتا ہے اور تعاون بھی ضروری ہے ویسا ہی آپ کا فرض ہے کہ دعوت الی اللہ کے کام کو بھی مالی نظام کے پہلو بہ پہلو کم سے کم اتنی سنجیدگی کے ساتھ لیں اور دونوں کو آگے بڑھا ئیں۔اس کے نتیجہ میں خدا کے فضل سے تبدیلیاں تو ہیں لیکن ابھی بہت ضرورت ہے۔الله یہ جو مختلف نظاموں کا آپس کے تعاون کا مضمون ہے یہ ہر زندہ جماعت کے اندر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا نافذ فرما دیا گیا ہے کہ جماعت کی کثرت کے باوجود ایک جسم دکھائی دیتی ہے اور آنحضرت ﷺ نے جب مومنوں کی جماعت کی تعریف ہی یہ فرمائی کہ خواہ کثرت سے ہوں دکھائی ایک جسم دیں اور جب تک ایک عضو دوسرے عضو سے تعاون نہ کرے جسم بن ہی نہیں سکتا۔اگر آنکھ، آنکھ سے تعاون نہ کرے تو ایک ادھر دیکھ رہی ہوتی ہے ایک ادھر دیکھ رہی ہوتی ہے اور ٹیڑھی نظر ہو جاتی ہے۔ٹانگ ، ٹانگ سے تعاون نہ کرے تو ایک ٹانگ دائیں طرف اٹھ رہی ہے ایک بائیں طرف اٹھ رہی ہے اور آدمی لڑکھڑا کے گر جاتا ہے یا کھڑا ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس مضمون پر روشنی ڈالتے