خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 642 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 642

خطبات طاہر جلد 15 642 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء ہیں کہ نہیں۔گھبراہٹ میں اس نے فون کیا تو فون پہ کہا ہاں ہاں میں نے پہچان لیا ہے۔یہ بتاؤ کرتی ہو کہ نہیں۔وہ حیران کہ اچھا مریض ہے، میں پوچھ رہی ہوں حالت کیا ہے ابا کی اور پھر کہا دیکھو فرض کر لو اپنے اوپر ایک احمدی ضرور بنانا ہے۔یہ وعدے لیتے لیتے اس دنیا سے رخصت ہوئے تو دعوت الی اللہ کا جو ایسا جنون کہ ساری زندگی پہ قبضہ کر لے یہ خدا کا خاص انعام تھا جو ان پر تھا۔مسلسل پچاس سال انہوں نے سپین میں دعوت الی اللہ کا کام کیا ہے اور شوق ایسا تھا کہ جب ایک زمانے میں جماعت کی غربت کی وجہ سے 1947ء کی بات ہے یہ چھیالیس میں وہاں گئے ہیں اور ایک سال کے اندراندرجو مبلغ باہر بھجوائے گئے تھے جماعت کے پاس پیسے نہیں تھے کہ ان کو ان کے روز مرہ کی زندگی کے اخراجات دے سکے ، بڑی تنخواہوں کی تو بحث ہی نہیں ہوا کرتی تھی۔یہ بات چلتی تھی کہ روز مرہ زندہ رہنے کے لئے جو کم از کم ضرورتیں ہیں وہ جماعت پوری کر سکتی ہے کہ نہیں۔آخر حضرت مصلح موعودؓ نے بادل نخواستہ یہ فیصلہ کیا کہ بہت سے مبلغوں کو واپس بلا لیا جائے یا ان کو کہہ دیا جائے کہ اب ہم تمہیں کچھ نہیں سپورٹ کر سکتے اس لئے فارغ ہو۔تو جب ان کو یہ پیغام ملا تو انہوں نے فوری طور پر رابطہ کیا اور کہا کہ میں تو کسی قیمت پر فارغ نہیں ہو سکتا۔گزارے کی بات ہے میں اپنا گزارہ خود کروں گا اور حضرت مصلح موعود اتنا متاثر ہوئے اس سے کہ بعد میں ایک خطبہ کے دوران فرمایا کہ دیکھو ہمارا ایسا بھی مبلغ ہے اس نے کہا میری پرواہ نہ کریں میں اپنا گزارہ کروں گا بیوی بچوں کا کروں گا لیکن تبلیغ نہیں میں نے چھوڑنی ، خدا کے لئے مجھے فارغ نہ کریں۔جب ایک موقع پر میں نے فیصلہ کیا کہ اب ان کو بہت بیمار بھی ہو گئے تھے ریٹائر کر دیا جائے تو ان کا بڑا دردناک خط ملا کہ ریٹائر نہ کریں جس طرح بھی ہے میں گزارہ کروں گا مجھے اسی حالت میں رہنے دیں۔چنانچہ پچاس سال مسلسل ، ستائیس سال کی عمر میں پیین گئے تھے، وہاں رہے اور اس عرصے میں ایک بڑا عرصہ وہ تھا جب جماعت سے ایک پیسہ بھی نہیں ملا ، عطر بیچتے تھے خود ہی عطر بنانے سیکھے اور پولیس آتی تھی ، حملے کرتی تھی، پکڑتی تھی ، پھر چھوڑ بھی دیا کرتی تھی۔یہ مسئلہ نہیں سمجھ آرہا تھا کہ پولیس نے قید کیوں نہیں کیا اور چھوڑ کیوں جایا کرتی تھی۔یہ مسئلہ اس طرح حل ہوا کہ ایک بڑے سینئر پولیس افسر نے ان کے بیٹے سے بعد میں بیان کیا کہ ہم اسے اس لئے چھوڑ دیتے تھے کہ ہمیں خطرہ تھا کہ جیل میں سب کو احمدی بنالے گا۔اس لئے کوئی احسان نہیں تھا، مجبوری تھی۔ڈرانے دھمکانے کے