خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 641
خطبات طاہر جلد 15 641 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء کھانے بھی خراب کئے۔کئی خاندان ہیں جو سیر کی خاطر بڑی دور سے خرچ کر کے آئے ہیں وہاں آپ زبر دستی ان کو مذہب کی طرف لا رہے ہیں ان کا بالکل دل نہیں چاہ رہا، ان کے چہرے بتارہے تھے کہ وہ گھبرا رہے ہیں صرف شرافت کی وجہ سے آپ کو کچھ نہیں کہتے۔بیرا بے چارہ گھبرا گیا۔یہ کیا ہو گیا میں نے تو کھانے کی پلیٹ رکھی ہے تو اس نے آگے سے ایک پمفلٹ پکڑا دیا ہے۔تو حکمت کے لحاظ سے آپ بے شک یہ کہہ سکتے ہیں کہ بسا اوقات وہ اپنے جنون کی وجہ سے حکمت کے تقاضے بھی بھول جاتے تھے اور مجھے ان کو سمجھانا پڑا اور اس وجہ سے چونکہ میں ان کے ساتھ سفر کر چکا تھا ، میں دیکھ چکا تھا، مجھے یہ بھی پتا چل گیا کہ اتنا بے شمار پمفلٹ کا خرچ کیوں ہو رہا ہے کیونکہ چین میں اتنے احمدی نہیں تھے جتنے پمفلٹ چل رہے تھے۔تو ان کا یہ شغل تھا زندگی میں۔بازار میں چلتے پھرتے ہر جگہ وہ پمفلٹس کے بیگ انہوں نے اٹھائے ہوتے تھے وہ خالی کر کے واپس آیا کرتے تھے۔تو میں نے پھر ان کو سمجھایا میں نے کہا دیکھیں خرچ سے کوئی عار نہیں ہے، خرچ پر مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر بر محل تو ہونا چاہئے کیونکہ مجھے یہ اطلاع ملی کہ وہ ادھر پمفلٹ دے کے گئے ادھر لوگوں نے پھینک دئے اور بعض دفعہ پھر وہ قدموں تلے روندا بھی جاتا تھا۔تو جب میں نے ان کو پیار سے یہ باتیں سمجھا ئیں تو سمجھ گئے اور اس کے بعد پھر انہوں نے اپنے طرز تبلیغ میں کچھ تبدیلی کی جو مناسب حال تھی لیکن تبلیغ آخری دموں تک کرنے کا ایسا جنون تھا کہ وفات سے چند منٹ پہلے چوٹی کا ڈاکٹر ان کو دیکھنے آیا کہ کیا حالت ہے اور اسی حالت میں منہ میں آکسیجن لگی ہوئی ہے یا ہٹا کر یا کچھ زور لگا کر اپنی بیوی کو کہا فوراً اسلامی اصول کی فلاسفی اس سرجن کو دے دو۔ان کی بیگم سے جب میں نے تعزیت کا فون کیا تو انہوں نے کہا سر جن مجھے کہتا تھا یہ کیا شخص ہے۔زندگی آخری دموں تک جا پہنچی ہے ، جان لبوں پر آگئی ہے اور میں اس کی طبیعت پوچھنے آرہا ہوں یہ مجھے کہتا ہے فلاں کتاب پڑھواور ہر ایک سے یہی حال تھا۔سارے اردگرد کے مریض اس وقت ان کی تبلیغ کا نشانہ بنے ہوئے تھے اور بہت نرم دل سے لوگوں سے ملتے تھے ، اپنے خاندان کے جو افراد ملنے آتے تھے صرف ایک دفعہ غصہ آیا وہ اس بات پر کہ انہوں نے کہا تھا کہ فلاں لٹریچر دولٹریچر تھا نہیں ، کہا کہ میری عیادت کرنے کیا تم آئے ہو۔اگر لٹریچر ہی نہیں لے کے آتے تو اس عیادت کا کیا فائدہ۔ان کی ایک بیٹی امریکہ ہے اس نے فون کیا اور یہ آخری دموں کی بات ہے کچھ یعنی آخری چند دنوں کے اندر اس کو خیال تھا کہ پتا نہیں ابا ابھی زندہ بھی