خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 624
خطبات طاہر جلد 15 624 خطبہ جمعہ 9 اگست 1996ء کہ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ اس کی کمزوریاں دور کرنے کے لئے ایسے سامان پیدا کرتا چلا جاتا ہے کہ اچانک اس کو نصیحت آتی ہے۔بعض دفعہ ٹھوکریں کھاتا ہے، بعض دفعہ محبت اور پیار کے رستے سے اس کی تربیت فرماتا ہے۔مگر جب تک وہ دوسروں کی تربیت میں ہے خدا ضرور اس کی تربیت کے سامان پیدا کرتا ہے۔یہ وعدہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے ہمیں دیا۔ایک اور حدیث ہے جو حضرت ابوھریرہ سے مروی ہے مسلم کتاب الذكر(و الدعاء و التوبة والاستغفار میں باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر، يه عنوان ہے اس حدیث کا۔حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیا وی بے چینی اور تکلیف کو دور کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی بے چینیوں اور تکلیف کو اس سے دور کرے گا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا یہ عمل جس کا وعدہ فرمایا گیا ہے وہ محض دنیا کی اصلاحوں سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس دنیا کی زندگی میں جو باتیں ٹھیک ہونے سے رہ بھی جائیں ، ان کی اصلاح نہ بھی ہو سکے خدا تعالیٰ اتنا اجر عطا فرماتا ہے نیکی کی طرف بلانے والے اور بدیوں سے روکنے والے کو کہ اس کی وہ بے چینیاں دور کر دیتا ہے جو ان اعمال کے نتیجہ میں ہیں جو اصلاح پذیر نہ ہوسکیں، ان کمزوریوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جن کی اصلاح نہ ہوسکی، جن کو دور نہ کیا جا سکے تو اللہ تعالیٰ کا اجر کا معاملہ اس دنیا سے بھی تعلق رکھتا ہے اس دنیا سے بھی تعلق رکھتا ہے۔اس سے زیادہ عظیم نصیحت کرنے والا کب دنیا میں کسی نے دیکھا۔ناممکن ہے۔ساری صلى الله کائنات میں مصلحین پر نظر ڈال کر دیکھ لیں محمد رسول اللہ سے بڑھ کر، گہرائی میں اتر کر نصیحت کرنے والا اور ایسی نصیحت کرنے والا جو کھینچ لے بڑی قوت کے ساتھ کبھی آپ کہیں دنیا میں نہیں دیکھیں گے نہ ہو سکتا تھا ، نہ ہوا ہے، نہ آئندہ ہو گا مگر آپ جو ہیں آئندہ کسی الگ ناصح کی اس لحاظ سے ضرورت نہیں کہ جو ناصح بھی اٹھے گا آپ ہی کی نصیحتیں لے کے اٹھے گا۔حضرت مسیح موعود نے کب اپنی طرف سے کچھ مزید اضافہ کیا وہی کاروبار ہے جسے لے کر چلے ہیں اور اسی میں طاقت ہے۔مگر ضرورت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نصیحت کو یا نصائح کو غور سے دیکھیں اور ان میں جوڑ ملائیں اور معلوم کریں کہ یہ کس مضمون سے تعلق رکھنے والی ہیں۔جب آپ ان کو سمجھیں گے تو حیرت کے سمندر میں غرق ہو جائیں گے یہ کتنا عظیم نبی ہے۔