خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 609 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 609

خطبات طاہر جلد 15 609 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء تھا اور امیر صاحب نے جو ان کے ساتھ تھے بتایا کہ وہاں یہ ہم سے تعاون کرتے تھے مگر صاف کہتے تھے کہ احمدی میں نے نہیں ہونا۔ان کی اپنی مجبوریاں تھیں۔تو اب یہ دیکھیں ایک تعاون ایک اور نیکی پر منتج ہوتا ہے اور پھر اس شخص کو جو تعاون کے نتیجہ میں نیکی پاتا ہے کس طرح ہدایت کی طرف گویا پکڑ کر لے جاتا ہے، ہاتھ پکڑ کر وہاں پہنچا دیتا ہے۔انہوں نے کہا یہاں جب میں نے آکے دیکھا تو آپ لوگوں کو میں نے عجیب پایا۔محض نیکی کی خاطر اس طرح کیٹریوں کی طرح دن رات کام ہور ہا تھا۔سب خوش تھے، سب ایک دوسرے سے محبت کر رہے تھے۔ہر ایک کو دوسرے سے تعاون کے لئے دل کے جذبے تھے جو مجبور کر رہے تھے، میں نے کوئی بیرونی دباؤ ایسا نہیں دیکھا جس کے نتیجہ میں یہ ہوا ہو۔انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنے کے بعد میں غیر احمدی کیسے رہ سکتا ہوں۔آج میں ابھی اعلان کرتا ہوں کہ نہ صرف یہ کہ میں احمدی ہوں بلکہ واپس جا کر چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک اپنی ساری قوم کو احمدی نہ بنالوں۔اب اس کے نتیجہ میں دیکھیں میں آپ کو ایک ایسی مثال دے رہا ہوں جس طرح حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے شرک کے زمانے کی نیکیاں ہی تو تھیں جو تمہیں ہدایت تک لے آئی ہیں اور کیا جزاء چاہتے ہو۔تو ان کے تعاون کی جزا تھی جو ان کو خدا نے یہاں پہنچنے کی توفیق بخشی اور تعاون ہی تھا جسے دیکھ کر ان کے دل کی کایا پلٹ گئی اور جو ایمان افروز نظارہ اس وقت میں نے دیکھا کہ وہ ممبر پارلیمنٹ جو سینیگال سے آئے ہوئے تھے اس بات کو سن کر اتنا خوش ہوئے کہ اس کے ہاتھ پکڑ پکڑ کے چومنے لگے کہ تم نے ہمارے دل کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔یہ جذ بہ بنائے نہیں بن سکتا۔یہ اللہ کا احسان ہے اور تعاون ہی کے پھل ہیں۔پس بر اور تقویٰ پر تعاون کو آگے بڑھاتے رہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جب مجھے امریکہ اور کینیڈا کے جلسے میں شامل ہونے کی توفیق ملی تو شروع ہی میں میں نے ان کو چند نصیحتیں کی تھیں جو جلسہ سالانہ کے آغاز پر کی جاتی ہیں اور انہوں نے اس طرح اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا کہ خود وہاں کے جو شر کا ء کار تھے انہوں نے مجھ سے ملاقات کے دوران کہا کہ آج تک ہم نے اتنی حیرت انگیز تعاون کی روح پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔بچہ بچہ، بوڑھا، جوان اس طرح تعاون کر رہا تھا کہ یہ فرق ہی مٹ گیا تھا کہ کیوں کوئی کام کرے۔حاکم اور محکوم کے تفرقے مٹ گئے تھے۔ایک آواز اٹھتی تھی نیکی کے لئے سارے دوڑے چلے آتے تھے اور یہ جو تعاون ہے پہلے آپ کو