خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 605
خطبات طاہر جلد 15 605 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء قدرت میں میری جان ہے یا تو تم نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو ور نہ قریب ہے کہ اللہ تعالی تمہیں سخت عذاب سے دو چار کرے پھر تم دعا ئیں کرو گے لیکن وہ دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔پس یہ اہمیت ہے وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ کی ، جس کو اگر آپ ذہن نشین کرلیں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ یہ آپ کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔پس بظاہر تعاون کرنا ایک نفلی کام ہے مگر جب اس پر غور کریں تو پتا چلے گا کہ یہ نفلی کام ایسا ہے جو آپ کی قومی بقاء کے لئے ضروری ہے اور اگر آپ نیکیوں میں تعاون کرنا سیکھ جائیں اور برائیوں سے روکنے کی عادت ڈال لیں خواہ آپ کو امارت نصیب ہو یا نہ ہولیکن عادت بنالیں کہ جہاں اچھا کام ہے آپ نے آگے بڑھ کر اس کی مدد کی کوشش کرنی ہے جہاں بری بات ہورہی ہے وہاں کچھ اور نہیں تو زبان سے روکیں۔پس یہ تصور جو مولویوں والا ہے کہ کسی نے سر پہ دو پٹہ نہیں رکھا ہوا تو اس کو تھپڑ مارو اور اس کے سر پہ زبر دستی دو پٹہ پہنا دو یہ ہرگز اس آیت کا مضمون نہیں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی مسلمان عورت کو زبر دستی برقعہ نہیں پہنایا۔قرآن کریم میں نصیحتیں آتی رہی ہیں۔یہ مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔مگر ایک بھی واقعہ ایسا نہیں کہ کوئی صلى الله عورت آنحضور کی خدمت میں گھسیٹ کے لائی گئی ہو کہ یا رسول اللہ ﷺ ! یہ پردہ نہیں کر رہی تھی ٹھیک طریقے سے نہیں کر رہی تھی تو خدا اس کے ساتھ نپٹے گا لیکن پردے کی نصیحت کرنا یہ سوسائٹی کا شیوہ تھا۔نیک باتوں کی تاکید کرنا بری باتوں سے روکنا یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقوی کی آیت میں اور معروف کے حکم اور بدی کے روکنے کے مضمون میں ہمارے سامنے کھولتا ہے۔پس یہ اپنی عادت بنا ئیں کہ اچھی بات میں اس لئے تعاون کریں کہ اچھی بات ہے۔آپ نے اچھی بات کو اپنا کر اس کے لئے ایسی کوشش کرنی ہے جیسے اپنی چیز ہے اور جب برائی سے روکتے ہیں تو اس وقت آپ کو اختیار ہے طاقت کے استعمال کا جب خدا تعالیٰ آپ کو اس پر مامور کرتا ہے اور جب ایسے معاملات میں کوئی شخص بعض احمقانہ فیصلے کر کے ان پر عمل کر رہا ہے جس سے ساری قوم کی بر بادی لازم ہو جاتی ہے اس صورت میں قوم کو اجازت ہے ، انفرادی طور پر ہر شخص کو یہ اجازت ہی نہیں کہ وہ بیچ میں دخل اندازی کرتا پھرے۔