خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 604 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 604

خطبات طاہر جلد 15 604 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء نے ایک کشتی میں جگہ حاصل کرنے کے لئے قرعہ ڈالا۔کچھ لوگوں کو اوپر کا حصہ ملا اور کچھ کو نیچے کی منزل میں جگہ ملی۔جو لوگ نیچے کی منزل میں تھے وہ اوپر والی منزل میں سے گزر کر پانی لیتے تھے۔بظاہر آپ سمجھتے ہیں کہ الٹ ہونا چاہئے ، اوپر والوں کو پانی کے قریب آنے کے لئے نیچے آنا چاہئے مگر اگر چاروں طرف سے دیوار میں اٹھی ہوئی ہوں اور پانی کو اندر آنے کی راہ نہ ہو تو آپ کیسے نیچے کی منزل سے پانی لے سکتے ہیں۔تو جہاں کشتی کا اوپر کا کنارہ ہے وہاں سے ڈول پھینکا جاسکتا ہے اندر سے ڈول نہیں پھینکا جا سکتا۔تو یہ مضمون ہے کہ نیچے کی منزل والوں کے لئے ضروری تھا کہ اوپر جائیں اور او پر جا کر وہاں سے ڈول ڈالیں اور اپنا پانی حاصل کریں اور اوپر کی منزل والوں کو یہ آرام تھا کہ اوپر بیٹھے بیٹھے وہ پانی حاصل کر لیا کرتے تھے۔اس پر جو نیچے کی منزل والے تھے ان میں سے ایک بیوقوف نے یہ مشورہ دیا کہ کیوں نہ ہم یہیں سوراخ کرلیں اور سوراخ کر کے اپنا پانی نیچے سے حاصل کر لیں۔اب صلى الله وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ کی مثال رسول اللہ لہ پیش فرما ر ہے ہیں۔اوپر کی منزل والوں کے متعلق فرماتے ہیں کہ اگر وہ یہ خیال کر کے کہ ان کا کام ہے یہ جو مرضی کرتے پھریں ہمیں کیا اس سے، اس میں دخل نہ دیں تو یہ لوگ خود بھی غرق ہوں گے اور اوپر والوں کو بھی غرق کر دیں گے۔اس لئے یہاں اوپر والوں کا فرض ہے کہ ان کو ان کے اس بظاہر حق سے محروم کر دیں کیوں کہ یہ بدی کر رہے ہیں اور بدی میں کوئی تعاون نہیں ہے۔پس اس پہلو سے جب نھی عن المنکر کی بات ہوتی ہے تو یہ مراد ہے کہ بدیوں سے روکنا ہے لیکن اگر بدیوں سے روکنا اس مرتبے تک جا پہنچے کہ ساری قوم کی ہلاکت کا موجب بنے تو پھر خدا تعالیٰ اسی حد تک دخل اندازی کا بھی حق دیتا ہے اور اگر انسان یہ کہے کہ یہ تو تعاون کی روح کے خلاف ہے، ہم کیوں نہ ان سے تعاون کریں، ان کو کرنے دیں جو وہ کرتے ہیں تو یہ جہالت ہوگی۔فرمایا کہ اگر وہ ان کو نہیں روکیں گے تو تمام غرق ہو جائیں گے۔ایک اور حدیث میں آنحضرت مے کی طرف سے، یہ ترمذی ابواب الفتن باب امر بالمعروف ونهی عن المنکر سے لی گئی ہے۔یہ چونکہ ہم اب تعاون کی گفتگو کرتے ہوئے امر بالمعروف اور نهي عن المنکر کی بات شروع کر بیٹھے ہیں تو اس مضمون پر ایک حدیث میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ